سینیٹ الیکشن:کاغذاتِ نامزدگی کا مرحلہ مکمل

پاکستانی پارلیمنٹ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق سینیٹ کے دو مارچ کو طے شدہ انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کی آج آخری تاریخ تھی جس کے ساتھ ہی سینیٹ کے انتخابات کے لیے پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال سولہ اور سترہ فروری کو کی جائے گی۔

پاکستان کے آئین کے تحت سینیٹ کے انتخابات بالواسطہ ہوتے ہیں اور صوبائی اسمبلیاں اور قومی اسمبلی کے اراکین ان کا انتخاب کرتے ہیں ۔

پاکستان کے ایوانِ بالا سینیٹ کی چوّن نشستوں پر انتخابات کے لیےکاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کی آج آخری تاریخ تھی۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں نے اس کے لیے اپنے امیدوار نامزد کیےہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق سینیٹ کے انتخابات دو مارچ کو ہوں گے۔ پاکستان میں سینیٹ کی کُل ایک سو آٹھ نشستیں ہیں جن میں سے آدھی نشستوں پر ہر تین سال بعد انتخاب ہوتا ہے۔

نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق دو مارچ کو تمام صوبوں کی اسمبلیوں میں سینیٹ کی سات عام نشستوں جبکہ دوخواتین ، دو ٹیکنوکریٹس اورایک غیرمسلم کی نشست کے لیے انتخاب ہوگا۔ اس کےعلاوہ دارالحکومت اسلام آباد کی دو عمومی اورقبائلی علاقوں کی چار عمومی نشستوں پر ووٹنگ قومی اسمبلی میں ہوگی۔

اس سلسلے میں اسلام آباد کی دو نشستوں کے چار امیدواروں نے کاغذات جمع کروائے ہیں جن میں قاف لیگ کے مشاہدحسین سید قابلِ ذکر ہیں۔ ان نشستوں کے لیے مسلم لیگ ن کے دو اور پیپلزپارٹی کا ایک امیدوار بھی میدان میں ہے۔

قبائلی علاقوں کی چار نشستوں کے لیے سولہ امیدوار میدان میں ہیں جو سب آزاد حیثیت سے انتخاب لڑ رہے ہیں ۔ ان میں حمید اللہ جان آفریدی ، محمد صالح شاہ اور اورنگزیب خان اہم نام ہیں۔

صوبہ بلوچستان میں سینیٹ کی سات ، جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی دو دو اور اقلیت کی ایک نشست کے لیے مجموعی طور پر اکیاون افراد نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے ہیں ۔ ان افراد میں پیپلزپارٹی کے سیف اللہ مگسی ، سردار فتح محمد حسنی اور جاویداحمد شامل ہیں جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء اللہ زہری نے بھی کاغزات جمع کروائے ہیں۔

سندھ میں سات عمومی نشستوں کے لیے ایم کیو ایم کے مصطفٰی کمال سمیت آٹھ امیدوار ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کے رضا ربانی سمیت پانچ فنکشنل لیگ کے دو اور ایک آزاد امیدوار بھی میدان میں ہے۔

خواتین کی نشستوں کے لیے ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے دو دو امیدوار کھڑے کیے ہیں جبکہ ٹیکنو کریٹس کی نشست کے لیے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سمیت کُل چھ امیدوار ہیں اور غیرمسلم کی نشست کے لیے ایم کیوایم اور پیپلزپارٹی کےدو، دو امیدوار میدان میں ہیں۔

صوبہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کے اعتزاز احسن اور ڈاکٹر بابر اعوان جبکہ ن لیگ کے اسحاق ڈار ذوالفقار کھوسہ نامور شخصیات ہیں جبکہ قاف لیگ کی جانب سے کامل علی آغا واحد امید وار ہیں۔ ان میں ن لیگ کے اسحاق ڈار اور پیپلزپارٹی کے اعتزاز احسن کے خلاف ٹیکنو کریٹس کی دو نشستوں پرکسی نے کاغذات جمع نہیں کروائے اس لیے ان دونوں کی بلا مقابلہ کامیابی یقینی ہوگئی ہے۔

صوبہ خیبر پختون خواہ کی سات عمومی نشستوں کے لیے اکیس امیدوار میدان میں ہیں جن میں اے این پی کے شاہی سید اور میاں افتخارحسین سمیت چار ، پیپلزپارٹی اور جممیعتِ علمائے اسلام کے تین ن لیگ کے دو اور دیگر آزاد امید وار ہیں۔

خواتین کی دو نشستوں کے لیے کُل چھ امید وار ہیں ، جن میں اے این پی کے دو ، پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کا ایک ایک امیدوار ہے۔ ٹیکنو کریٹس کی نشست کے لیے پیپلزپارٹی کے فرحت اللہ بابر ، ن لیگ کے اقبال ظفر جھگڑا اور اے این پی اے الیاس بلور قابلِ ذکر ہیں۔

غیر مسلم کی نشست کےلیے بھی چار امیدوار میدان میں ہیں۔

اسی بارے میں