’چوہدری اسلم کے مکان پر حملہ خودکش تھا‘

کراچی میں طالبان کی ویڈیو جاری

تحریک طالبان پاکستان نے کراچی میں ایس پی سی آئی ڈی کے گھر پر حملے کی ویڈیو جاری کردی ہے، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔ اس حملے میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس ویڈیو میں مبینہ خوکش بمبار رحمٰن اللہ کا پیغام بھی دکھایا گیا ہے، جس میں پس منظر میں تحریک طالبان حلقے کراچی کا بینر اور سامنے ڈیسک پر ایک لیپ ٹاپ اور ٹی ٹی پستول موجود ہے۔

اس پیغام کے بعد تیس بتیس سال کی عمر کے رحمٰن اللہ کو علی الصبح ایک سوزوکی پک اپ میں سوار ہوتے ہوئے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس وقت وہ پشتو میں کہتے ہیں کہ ’میں اپنے مشن کی طرف جارہا ہوں اور انشااللہ کامیاب ہوں گا‘۔ جس کے بعد کچھ تصاویر کی مدد سے دھماکہ دکھایا گیا ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق حکام اس سے پہلے اس بات کا تعین نہیں کرسکے تھے کہ یہ خودکش حملہ ہے یا ریموٹ کنٹرول دھماکہ اور اب طالبان کی جاری کردہ ویڈیو میں اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ ایک فدائی حملہ تھا۔

اس ویڈیو میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گمشدگی، لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے مہم چلانے والی آمنہ جنجوعہ کے شوہر مسعود جنجوعہ کی گمشدگی اور بیٹے پر پولیس تشدد کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہے پاکستان کے حکمرانوں کی نئی پالیسی کے تحت فوج اور پولیس کے خفیہ اداروں نے محض چند ڈالروں کے عوض مجاہدین کو پکڑ پکڑ کر عقوبت خانوں میں ڈالنا شروع کردیا ہے۔ جہاں ان پر ظلم و تشدد کے وہ پہاڑ توڑے جا رہے ہیں جس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔

ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ خفیہ اداروں اور پولیس اہلکاروں کی بڑھتی ہوئی اسلام دشمنی، مجاہدین اور ان کے اہل خانہ پر ظلم و تشدد نے مجاہدین کی قیادت کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کردیا۔

طالبان نے اس ویڈیو میں اس نئے حکمت عملی کے تحت کمانڈر صفت غیور، ڈی پی او بنوں اقبال مروت، بریگیڈیئر معین حیدر، ایس پی چوہدری اسلم اوربریگیڈیئر فرخ کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اسی بارے میں