بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ان افراد کے نام اُن کے آبائی حلقوں کی کمپیوٹرائزڈ انتخابی فہرستوں میں شامل کیے جائیں گے

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے بیرونِ ملک مقیم سینتیس لاکھ پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دینے کی منظوری دے دی ہے تاہم یہ طے نہیں ہوا کہ ووٹ ڈالنے کا طریقۂ کار کیا ہوگا۔

اس بات کا فیصلہ منگل کو اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں ہوا۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ، وزارتِ خزانہ اور سمندر پار پاکستانیوں کی امور کی وزارت کے حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں ان سینتیس لاکھ پاکستانیوں کے نام انتخابی فہرستوں میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی جن کے پاس بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا شناختی کارڈ یا نائیکوپ ہے۔

الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار محمد افضل قذافی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان افراد کے نام اُن کے آبائی حلقوں کی کمپیوٹرائزڈ انتخابی فہرستوں میں شامل کیے جائیں گے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اُنہوں نے کہا کہ جو لوگ انتخابات کے وقت پاکستان میں ہوں گے تو وہ اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے جبکہ بیرون ممالک میں موجود پاکستانیوں کے ووٹ ڈالنے کے طریقۂ کار کو بعد میں حتمی شکل دی جائے گی۔

اورسیز پاکستانی فاونڈیشن کی طرف سے اجلاس میں تجویز دی گئی کہ بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کے تمام ووٹ متعلقہ سفارت خانوں میں بھجوائے جائیں تاکہ وہاں پر ان افراد کی ووٹوں کی تصدیق ہوسکے جبکہ وزارت خارجہ کے حکام کی طرف سے یہ تجویز سامنے آئی کہ بیرون ملکوں میں مقیم پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے وہاں پر پولنگ مراکز قائم کیے جائیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حتمی کمپوٹرائزڈ انتخابی فہرستوں کی تیاری کے لیے بائیس فروری تک کی مہلت دی ہے جبکہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستیں مقررہ تاریخ تک مکمل ہونا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

افضل قذافی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے آئندہ اجلاس میں بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے براہِ راست انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا اور اس کا طریقۂ کار بھی وضع کیا جائے گا۔

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان افراد کے ووٹ ڈالنے کے طریقۂ کار کو حتمی شکل دیں۔

انہوں نے سینتیس لاکھ غیر ملکی پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنے پر مبارکباد دی ہے اور اس اُمید کا اظہار کیا ہے کہ جس طرح بیرون ملکوں میں مقیم پاکستانی ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اُسی طرح وہ ملک کی سیاست میں بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔

اسی بارے میں