’بریگیڈیئر علی حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسا رہے تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption الزامات ثابت ہونے پر بریگیڈیئر علی خان کو سزائے موت سنائی جا سکتی ہے

کالعدم تنظیم حزب التحریر کے ساتھ روابط کے الزام میں پاکستانی فوج کے زیرحراست افسر بریگیڈیئر علی خان فوجی افسروں کو حکومت پاکستان کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوشش کر رہے تھے۔

یہ بات کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے فوجی افسر پر عائد کی گئی فرد جرم میں کہی گئی ہے۔

سول حکومت کے خلاف بغاوت کے ساتھ ساتھ بریگیڈیئر علی خان نے، فرد جرم کی دستاویز کے مطابق، بعض فوجی افسروں اور سویلین افراد کے ساتھ مل کر فوج کے صدر دفتر جی ایچ کیو پر حملہ کر کے وہاں لوگوں کو قتل کرنے کی سازش تیار کی تھی۔

ان مقاصد کے حصول کے لیے انہوں نے فوج کی ٹرِپل ون بریگیڈ گروپ کے سربراہ اور بعض دیگر اہم افسروں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔

بریگیڈیئر علی خان کو چھ مئی کو جی ایچ کیو (بری فوج کے صدر دفاتر) میں واقع ان کے دفتر سے حراست میں لیا گیا تھا۔ اس دوران ان کے خلاف حزب التحریر کے ساتھ روابط رکھنے کے الزام میں تحقیقات ہورہی تھیں۔

سیالکوٹ میں تعینات فوج کے ایک اعلیٰ افسر کے دستخطوں سے جاری ہونے والی چارج شیٹ میں بریگیڈیئر علی پر تین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ان پر پہلا الزام کالعدم تنظیم حزب التحریر کے ساتھ تعلق رکھنے کا ہے۔ فرد جرم کے مطابق بریگیڈیئر علی نے سنہ دو ہزار آٹھ سے لے کر دو ہزار گیارہ کے دوران مختلف مواقع پر اور مختلف لوگوں کے سامنے حزب التحریر سے تعلق کا اعتراف کیا۔

ان پر دوسرا الزام فوج کے افسروں کو حکومت پاکستان کے خلاف بغاوت پر اکسانے کا ہے۔ فرد جرم کے مطابق انہوں نے ٹرپل ون بریگیڈ گروپ کے بریگیڈیئر عامر ریاض، ائر ڈیفنس کمانڈ کے بریگیڈیئر محمد امین اور ڈیفنس ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن کے بریگیڈئر نعیم صادق کو حکومت پاکستان کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی۔

ان پر تیسرا الزام فوجی صدر دفاتر جی ایچ کیو پر حملہ کر کے وہاں قتل و غارت گری مچانے کی منصوبہ بندی کرنے کا ہے۔

یہ تمام الزامات ثابت ہونے پر بریگیڈیئر علی خان کو سزائے موت سنائی جا سکتی ہے۔

فرد جرم میں بریگیڈیئر علی کے ساتھ بعض سویلین افراد کے نام بھی شامل ہیں جن کے بارے میں فوجی حکام کا خیال ہے کہ یہ لوگ برطانوی شہری اور حزب التحریر کے رکن ہیں۔

فردِ جرم کے مطابق برگیڈیئر علی کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی ان کی اپنی فوجی یونٹ میں ہوگی جو اس وقت سیالکوٹ میں خدمات انجام دے رہی ہے۔

اسی بارے میں