تربت کے مزدوروں کی لاشیں کراچی منتقل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچ لبریشن فرنٹ کا کہنا ہے کہ صوبے میں تیل اور گیس کی تلاش کا کام جاری رہا تو حملے ہوتے رہیں گے۔

بلوچستان کے ضلع تربت میں مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہونے والے سات مزدروں کی لاشیں کراچی پہنچائی گئی ہیں۔ منگل کو تربت کے علاقے بلیدہ میں تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملہ کیا گیا تھا۔

کراچی کے ایدھی سرد خانے میں ساتوں مزدروں کی لاشیں موجود ہیں جن کا تعلق جنوبی وزیرستان اور سوات سے بتایا جاتا ہے۔

ہلاک ہونے والوں کے ایک ساتھی محمد نور نے بتایا کہ وہ حملے والی جگہ سے تھوڑے فاصلے پر موجود تھے، ان سے پہلے جائے وقوع پر لیویز اہلکار پہنچے۔ ’ہلاک ہونے والے مزدوروں کو کئی کئی گولیاں لگی ہوئی ہیں جو زیادہ تر سر اور چہروں پر ماری گئی تھیں۔ حملہ آوروں نے وہاں موجود گاڑیوں کو بھی نذر آتش کردیا۔‘

کراچی سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت عظمت اللہ، زرمدیل، شیخ سلام، محمد رفیق، بشیر بٹنی، امانتی خان اور شمانی خان کے نام سے کی گئی ہیں، جن کی عمریں بیس سے پچیس سال کے درمیان ہیں۔

محمد نور نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں پہلے تربت ہپستال منتقل کی گئیں، جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد ان کے حوالے کی گئیں وہ ایک بس میں یہ لاشیں کراچی لائے ہیں۔

اس تعمیراتی کمپنی میں سو کے قریب مزدور کام کرتے ہیں، کمپنی کو چالیس کلومیٹر روڈ کی تعمیر کرنی ہے جس میں سے نصف بن چکا ہے۔

محمد نور کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ایک جنگی صورتحال ہے، اس لیے پشتون اور پنجابی برداری کے زیادہ تر لوگ چلے گئے ہیں چونکہ یہ ایسی سڑک تھی جس کی تعمیر سے مقامی لوگ بھی خوش تھے اور یہ کمپنی گزشتہ بارہ سالوں سے یہاں کام بھی کر رہی ہے اس لیے انہیں پریشانی نہیں تھی۔

تعمیراتی کمپنی کے ان مزدوروں کی حفاظت کے لیے کچھ لیویز اہلکار بھی تعینات تھے، محمد نور کے مطابق اس حملے کے وقت وہ اہلکار موجود نہیں تھے۔ ’اب مزدور خوفزدہ ہیں، انہیں تحفظات بھی ہیں اس لیے دوبارہ کام کرنا مشکل ہوگیا ہے۔‘

یاد رہے کہ بلوچ لبریشن فرنٹ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی تھی، فرنٹ کے ترجمان ڈوڈا بلوچ کا کہنا تھا کہ پہلے بھی کمپنیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ صوبے میں تیل اور گیس کی تلاش کا کام نہ کریں اور اگر یہ کام جاری رہا تو حملے بھی ہوتے رہیں گے۔

ہلاک ہونے والے مزدوروں کے ایک اور ساتھی سفیر محسود نے بتایا کہ لاشوں کی حالت ایسی نہیں ہے کہ انہیں آبائی علاقوں کی طرف روانہ کیا جائے، اس لیے علماء نے انہیں کراچی میں دفن کرنے کا مشورہ دیا ہے اور انہیں شہید قرار دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں