سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں دواساز کارخانوں کے مالکان کی تنظیم نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں دو سو مریضوں کی ہلاکت کی تحقیقات سائنسی بنیادوں پر کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینو فیکچرز ایسوسی ایشن کے قائم مقام چیئرمین طارق اکرام نے کراچی میں دیگر عہدیداروں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس پورے معاملے میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ڈاکٹروں کی اہلیت کے بارے میں کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔

’پی آئی سی کے ڈاکٹر پنجاب بھر سے داخل ہونے والے مریضوں میں یکساں علامات کی تشخیص اور فوری کارروائی میں ناکام رہے ہیں۔ کسی نے بھی یہ معلوم نہیں کیا کہ اموات کی وجہ دوا کا دوسری دوا کے ساتھ رد عمل تھا یا دوا کی مقدار زیادہ تھی۔‘

طارق اکرام کا کہنا تھا کہ دوائوں کے اسٹور یج کی صورتحال کا تجزیہ بھی تحقیق کا حصہ ہونا چاہیے تھا تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ یہ دوا کسی دوسری دوا پر تو اثر انداز نہیں ہوئی۔

انہوں نے سوال کیا کہ جب متعلقہ دوائیں ہٹالی گئی ہیں تو اس کے باوجود پی آئی سی میں اموات کیوں ہو رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے مریضوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹس بھی ظاہر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ بات معلوم ہوسکے کہ کیا ہلاک ہونے والے تمام ہی مریضوں نے مذکورہ دوا استعمال کی تھی یا نہیں۔

طارق اکرم نے تجویز پیش کی کہ ڈبلیو ایچ او اور دیگر بین الاقوامی ماہرین سے تحقیقات کرانے کی ضرورت ہے جنہیں ادویات اور ان کے منفی رد عمل کے سلسلے میں معقول تجربہ ہو۔

پریس کے اختتام پر طارق اکرام نے بتایا کہ وہ کچھ تلخ حقائق پیش کرنا چاہتے تھے جن کی انہیں تنظیم نے اجازت نہیں دی، اس لیے وہ اپنے عہدے اور رکنیت سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ جس کے بعد وہ پریس کانفرنس سے اٹھ کر چلے گئے۔

ڈاکٹر قیصر وحید کا کہنا تھا کہ اکرام طارق کچھ سیاسی باتیں کرنا چاہ رہے تھے جو تنظیم نہیں چاہتی تھی کیونکہ یہ تاجروں کی تنظیم ہے۔ ’ہم کسی سیاسی بحث میں نہیں جانا چاہتے اور نہ صوبائی رنگ دینا نہیں چاہتے ہیں۔‘

دوسرے جانب وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے تحقیقات لاہور کی شادمان پولیس کے حوالے کردی ہے۔ ادارے کے ڈپٹی ڈائریکٹر اکبر بلوچ کا کہنا ہے کہ ایک واقعے کی دو ایف آئی آر نہیں ہوسکتیں اس لیے معاملے کی تفتیش پولیس نہیں کرے گی۔

کراچی میں ایف آئی اے نے مشتبہ دوائی کی فیکٹری کے ایک حصے کو سیل کردیا تھا اور نمونے تفتیش کے لیے اسلام آباد لیبارٹری کو روانہ کردئیے تھے۔ اکبر بلوچ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد سے بھی وہ ہی نتیجہ آیا ہے جو لندن کی لیبارٹری سے آیا تھا۔

اسی بارے میں