خیبر:’آٹھ شدت پسندوں سمیت دس ہلاک‘

 سیکورٹی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے جس میں ان کے دو ٹھکانے تباہ کردیئے گئے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور امن لشکر کی کارروائی میں آٹھ شدت پسند اور دو رضا کاروں کی ہلاکت جبکہ فرنٹیئر کور کے تین اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سرکاری اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا ہے یہ کارروائی خیبر ایجنسی کے دور افتادہ علاقے تیراہ میں نگر اور میر سر کے مقام پر کی گئی ہے۔

سکیورٹی حکام نے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں شدت پسندوں کے دو ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

حکام کے مطابق اس کارروائی میں آٹھ شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے لیکن اس تعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ان جھڑپوں میں امن لشکر کے دو ارکان کی ہلاکت اور ایف سی کے تین جوانوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے شدت پسندوں کے خلاف خیبر ایجنسی کے مختلف مقامات پر گزشتہ روز سرچ آپریشن بھی کیا ہے جس میں تقریباً دو درجن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں گزشتہ ماہ آپریشن شروع کیا گیا ہے جس کے بعد تقریباً پانچ ہزار خاندان نقل مکانی کر کے نوشہرہ کے قریب قائم جلوزئی کیمپ پہنچے ہیں۔

ادھر وسطی کرم ایجنسی میں ہونے والے ایک دھماکے میں ایک بچہ ہلاک اور اس کی والدہ اور دو بہنیں زخمی ہوئی ہیں۔

سرکاری عہدیداروں نے بتایا ہے کہ صدیق نامی بچے کو کہیں سے دستی بم ملا جسے وہ گھر لے آیا ۔ حکام نے بتایا کہ بم کے پھٹنے سے بچہ ہلاک اور گھر میں موجود بچے کی والدہ اور دو بہنیں زخمی ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں