کوئٹہ:اغواء اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ہڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شہر میں تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے

بلوچستان میں اغواء برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ،اور ڈکیتی و راہزنی کی وارداتوں کے خلاف کوئٹہ میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی ہے جس سے نظامِ زندگی متاثر ہوا ہے۔

جمعیت علماء اسلام (ف) اور عوامی نیشنل پارٹی کی اپیل پر جمعہ کو کوئٹہ شہر میں صبح سے ہی تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ شہر میں ٹریفک بھی معمول سے قدرے کم تھا۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق ان دونوں جماعتوں نے کہا ہے کہ اگرچہ کوئٹہ میں ہزاروں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات ہیں لیکن اس کے باوجود آئے روز سیاسی رہنماؤں کے اغواء اور قومی شاہراہوں پر عوام کو سر عام لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اورنگزیب کاسی کے مطابق ٹارگٹ کلنگ، اغواہ برائے تاوان، راہزنی اور ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے خلاف عام لوگ اور اقلیتوں سمیت سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی سراپا احتجاج ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اغواء برائے تاؤان میں ملوث گروہوں کو بعض صوبائی وزراہ کی سرپر ستی حاصل ہے لیکن حکومت نے ان کے خلاف ابھی تک کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا ہے۔

دوسری جانب جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر حافظ احمداللہ نے کہا ہے کہ کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں ڈاکو راج ہے لیکن حکمران عوام کے مسائل سے چشم پوشی اختیار کر رہےہیں۔

یاد رہے کہ بدھ کی شام کو نامعلوم افراد نے جمیعت علماء اسلام (ف) کے صوبائی سالار حاجی صادق نورزئی کو کوئٹہ کے سیٹلائٹ ٹاؤن سے اغواء کیا تھا لیکن تاحال پولیس انہیں بازیاب نہیں کرا سکی ہے۔

اسی بارے میں