’خطے کے مسائل ہم پر مسلط کیےگئے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تینوں ممالک کے صدور نے مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ خطے کو درپیش مسائل بیرونی طاقتوں کی وجہ سے ہیں اور تینوں ملکوں کو ملِ کر ان مشکلات کا حل نکالنا ہوگا۔

اسلام آباد میں سہ فریقی سربراہی کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ خطے میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جائےگی۔

جمعہ کو ایوانِ صدر میں ہونے والی اس بات چیت کی سربراہی پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کی اور اس میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اور افغان صدر حامد کرزئی بھی شریک ہوئے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اس خطے کے مسائل بیرونی طاقتوں کی جانب سے مسلط کیے گئے ہیں اور صرف متحد ہو کر ہی ان کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کسی عالمی طاقت کا نام لیے بغیرکہا کہ ’تمام مسائل باہر سے آ رہے ہیں اور اس سے ان کا مقصد اپنے مقاصد کا حصول اور عزائم کی ترویج ہے۔ وہ ہماری قوموں کو ترقی کرتا نہیں دیکھنا چاہتے‘۔

اُنہوں نے کہا کہ تینوں ملکوں کے سربراہ خطے میں مسائل کے حل کے لیے پُرعزم ہیں اور اُنہیں اُمید ہے کہ مشترکہ مفاد کے حصول کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔

مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے صدر آصف زرداری نے کہا کہ ایران اور پاکستان کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے اور کسی عالمی دباؤ سے پاکستان اور ایران کے تعلقات متاثر نہیں ہو سکتے۔

ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ کسی بھی قسم کے عالمی دباؤ سے متاثر نہیں ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر دنیا کو اس منصوبے سے متعلق اگر کوئی خدشات ہیں تو اُنہیں دور کرنے کے لیے پاکستان لابیئنگ کر رہا ہے۔

اس سوال پر کہ پاکستانی فوج افغانستان کو غیر مستحکم کر رہی ہے، صدر زرداری نے اس تاثر کو غلط قرار دیا اور کہا کہ مستحکم افغانستان پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ پاک افغان سرحد کے قریب افغان جنگ کی باقیات میں شامل کچھ افراد ایسی کارروائیاں کر رہے ہیں لیکن اس کی وجہ منشیات کی سمگلنگ ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ منشیات کی سمگلنگ عالمی مسئلہ ہے اور تینوں ملکوں کو مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ صدر زرداری کا کہنا تھا کہ منشیات سے حاصل کی گئی رقم انتہا پسندی اور شدت پسندی میں استعمال ہو رہی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ بیرونی مداخلت کی وجہ سے افغانستان میں موجود مسائل سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

پاکستانی صدر کا کہنا تھا کہ سوویت جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا نے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا اور اب اس موجودہ صورت حال میں پاکستان شدت پسندی اور دہشت گردی سے سب سے زیادہ نبرد آزما ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس جنگ میں پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی لیڈر بینظیر بھٹو کی جان کی بھی قربانی دی اور ہمیں آج تک یہ نہیں پتہ چلا کہ تحریک طالبان پاکستان کے رہنما بیت اللہ محسود کو فنڈز کون فراہم کر رہا تھا۔

صدر زرداری کا کہنا تھا کہ تینوں ملکوں کو خطے سے شدت پسندی کے خاتمے کے لیے مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔ اُنہوں نے کہا کہ تینوں ملکوں کو کان کنی ، زراعت اور توانائی کے شعبے میں ملکر کام کرنا چاہیے۔

صدرِ پاکستان نے ایران کے صدر کو پاکستان کا دوبارہ دورہ کرنے کی دعوت دی۔

پریس کانفرنس میں افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ تینوں ملکوں کے درمیان مذاکرات ساز گار ماحول میں ہوئے اور اس کانفرنس میں ایک دوسرے کا نقطۂ نظر سمجھنے کا موقع ملا۔ اُنہوں نے کہا کہ مسائل اور موجودہ مواقع کا ادراک تینوں ملکوں کو ہے۔

اس سے قبل سہ فریقی سربراہی مذاکرات میں خطے کی مجموعی صورتِ حال، طالبان سے بات چیت اور دہشت گری کے خلاف جنگ جیسے موضوعات کے علاوہ دیگر اہم امور پر بات چیت ہوئی۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اس سربراہی اجلاس کا مقصد مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ حکمتِ عملی بنانا تھا۔

اس سے پہلے ایک مشرکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس پر تینوں ملکوں کے سربراہان نے دستخط کیے۔

اس اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تینوں ملکوں کے صدور امن، سلامتی ، استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے تعاون میں مزید اضافہ کریں گے۔ اس کے علاوہ تینوں ملکوں کے وزیر تجارت ان ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لیے لائحہ عمل تیار کریں گے۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف اپنی حدود کسی کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ایک دوسرے کی آزادی اور خود مختاری کو یقینی بنائیں گے۔ اس مشترکہ اعلامیے میں افغان مہاجرین کی اُن کے ملک باعزت واپسی میں تعاون کرنے کا بھی اعادہ کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تینوں ملکوں کے وزیر داخلہ چھ ماہ کے دوران انسداد منشیات، شدت پسندی کا مقابلہ کرنے اور سرحدی انتظام سے طریقہ کار وضح کریں گے۔

اعلامیہ کے مطابق سہ فریقی سربراہی کانفرنس میں ہونے والے فیصلوں پر عمل درآمد میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے تینوں ملکوں کے نائب وزیر خارجہ کی سطح کے افسران باقاعدہ ملاقاتیں کریں گے جبکہ سہ فریقی سربراہ کانفرنس کا اگلا اجلاس اس سال کے آخر میں کابل میں ہوگا۔

اسی بارے میں