بلوچستان کی آزادی کے حق میں قرارداد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سیاسی اور لسانی طور پر بلوچ عوام کو کچلا جا رہا ہے

امریکی ایوانِ نمائندگان میں جمعہ کو ایک قرارداد جمع کروائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بلوچ عوام کو اپنے لیے آزاد ملک کا حق حاصل ہے۔

اس قرارداد کے مطابق بلوچی عوام کو تاریخی طور پر حقِ خود ارادیت حاصل ہے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان اس وقت پاکستان، ایران اور افغانستان میں بٹا ہوا ہے اس بلوچ عوام کو حقوق حاصل نہیں ہیں۔

یہ قرارداد ریپبلکن جماعت کے نمائندے ڈینا روباکر نے جمع کرائی ہے۔ روباکر خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔

انہوں نے حال ہی میں امورِ خارجہ کی کمیٹی میں بلوچستان کے معاملے پر عوامی سماعت بھی کروائی تھی اور اس پر بھی پاکستان نے شدید تنقید کی تھی۔

اوباما انتظامیہ نے اس سماعت میں امریکی موقف پیش کرنے کے لیے کسی کو نہیں بھیجا تھا اور کہا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بلوچ عوام پر تشدد کیا جا رہا ہے اور وہاں ماورائے عدالت ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔

’بلوچی عوام کو حقِ خود ارادیت اور آزاد ملک کا حق حاصل ہے اور ان کو موقع ملنا چاہیے کہ وہ اپنا فیصلہ کرسکیں۔ سیاسی اور لسانی طور پر بلوچ عوام کو کچلا جا رہا ہے جو کہ افسوسناک ہے۔ اور یہ اور بھی افسوسناک ہے کیونکہ امریکہ ان پر ظلم کرنے والوں کو اسلام آباد میں اسلحہ بیچ رہا ہے۔‘

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس قرارداد پر تنقید کی ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’یہ قرارداد اپنے مخصوص مقاصد کے لیے پیش کی گئی ہے جو کہ جہالت اور لاعلمی پر مبنی ہے‘۔

اسی بارے میں