’قرارداد پاکستان کی سالمیت پر حملہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان اس اقدام کی شدید مذمت کرتا ہے:گیلانی

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے پر امریکی ایوانِ نمائندگان میں قرارداد پیش کیا جانا پاکستان کی سالمیت پر حملے کے مترادف ہے۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق سنیچر کو کراچی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’ہم اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں اور یہ ہماری سالمیت کی خلاف ورزی ہے‘۔

امریکی ایوانِ نمائندگان میں جمعہ کو ایک قرارداد جمع کروائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بلوچ عوام کو اپنے لیے آزاد ملک کا حق حاصل ہے۔

وزیراعظم پاکستان کے علاوہ بلوچستان کے وزیراعلٰی نے بھی اس قرارداد کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سنیچر کو ہی ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ انہوں نے اسے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بلوچستان کی منتخب حکومت کی توہین ہے۔

امریکی قرارداد کے خلاف پاکستان کے صوبہ خیبر پختوخوا کی اسمبلی میں مسلم لیگ نواز کے رکن اسمبلی نے ایک تحریک التواء بھی جمع کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے ایوان نمائندگان میں بلوچستان کے حوالے سے قرار داد پیش کرنا پاکستان کی خود مختاری کے خلاف ہے۔

تحریک جمع کروانے والے رکن صوبائی اسمبلی جاوید عباسی نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور دیگر ایسی کارروائیاں جاری ہیں جس پر لوگ خفا ہے لیکن کسی دوسرے ملک کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرے۔

انھوں نے کہا کمہ یہ پاکستان توڑنے کی کوشش ہے۔ جاوید عباسی نے کہا اگر بلوچستان کے اندر سے اس طرح کی تحریک پیش کی جاتی یا بلوچی رہنما یہ باتیں کرتے تو انھیں اس پر اعتراض نہ ہوتا لیکن باہر کے ممالک کی اس طرح کی کوششیں وہ ناکام بنا دیں گے۔

انھوں نے کہا وہ یہ نہیں سمجھتے کہ بلوچستان میں اکثر لوگ خود مختاری چاہتے ہیں کیونکہ بلوچستان اسمبلی اور قومی اسمبلی میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رکن نے اس طرح کی کوئی بات نہیں کی ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھی اس قرارداد پر تنقید کی تھی۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’یہ قرارداد اپنے مخصوص مقاصد کے لیے پیش کی گئی ہے جو کہ جہالت اور لاعلمی پر مبنی ہے‘۔

امریکہ میں پیش کی گئی قرارداد کے مطابق بلوچی عوام کو تاریخی طور پر حقِ خود ارادیت حاصل ہے اور پاکستان میں بلوچ عوام پر تشدد کیا جا رہا ہے اور وہاں ماورائے عدالت ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سیاسی اور لسانی طور پر بلوچ عوام کو کچلا جا رہا ہے

’بلوچی عوام کو حقِ خود ارادیت اور آزاد ملک کا حق حاصل ہے اور ان کو موقع ملنا چاہیے کہ وہ اپنا فیصلہ کرسکیں۔ سیاسی اور لسانی طور پر بلوچ عوام کو کچلا جا رہا ہے جو کہ افسوسناک ہے۔ اور یہ اور بھی افسوسناک ہے کیونکہ امریکہ ان پر ظلم کرنے والوں کو اسلام آباد میں اسلحہ بیچ رہا ہے۔‘

یہ قرارداد ریپبلکن جماعت کے نمائندے ڈینا روباکر نے جمع کرائی ہے۔ روباکر خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں امورِ خارجہ کی کمیٹی میں بلوچستان کے معاملے پر عوامی سماعت بھی کروائی تھی اور اس پر بھی پاکستان نے شدید تنقید کی تھی۔

اوباما انتظامیہ نے اس سماعت میں امریکی موقف پیش کرنے کے لیے کسی کو نہیں بھیجا تھا اور کہا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔

اسی بارے میں