منی لانڈرنگ:حکومت کے لیے ایک ’ویک اپ کال‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

پاکستان میں معاشی ماہرین نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے عالمی معیار کے مطابق اقدامات نہ کرنے پر پاکستان کو بلیک لسٹ کیے جانے کو حکومت کے لیے ایک ’ویک اپ کال‘ قرار دیا ہے۔

فرانس میں مالی معاملات کے نگران ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ پاکستان میں اس سلسلے میں موثر پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے منی لانڈرنگ کے ذریعے رقوم دہشت گرد تنظیموں تک پہنچ سکتی ہیں۔

معاشی تجزیہ نگار محمد سہیل کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے کوئی زیادہ اثرات مرتب نہیں ہوں گے کیونکہ اسی فہرست میں پاکستان کے علاوہ کچھ ایسے ممالک بھی شامل ہیں جو سیاسی اور معاشی طور پر مستحکم ہیں۔ اس لیے وہ نہیں سمجھتے یہ کوئی بڑا مسئلہ ہوگا۔

’حکومت پاکستان کے لیے اب ضروری ہے کہ وہ بینکنگ ذرائع اور دوسرے ذرائع سے منی لانڈرنگ سے وابستہ معاملات اور ان میں موجود خامیوں کو درست کرے‘۔

محمد سہیل کی رائے سے ماہر معاشیات اے بی شاہد اتفاق نہیں کرتے، ان کا کہنا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف درجہ بندی کرتی ہے، جس سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔’پچھلے دنوں یہ رپورٹس آچکی ہیں کہ گزشتہ سال پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اکسٹھ فیصد کمی ہوئی ہے‘۔

پاکستان میں غیر ملکی کرنسی کے کاروبار میں دس فیصد حصہ نجی مارکیٹ کا بھی ہے۔

پاکستان فاریکس ایسو سی ایشن کے چیئرمین ملک محمد بوستان ایف اے ٹی ایف کے فیصلے کو بلاجواز قرار دیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ آج تک کسی بینک یا نجی فارن ایکسچینج کمپنی پر منی لانڈرنگ کا الزام ثابت نہیں ہوا ہے۔

ملک بوستان کے مطابق انہوں نے عالمی بینک کے وفد سے اس حوالے سے ایک اجلاس میں پوچھا تھا کہ کیا ان کے پاس پاکستان کے کسی بینک کے خلاف کوئی ایسا ثبوت ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ اس نے منی لانڈرنگ کی ہے۔

’عالمی بینک کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے مگر پاکستان کے بینکوں سے مشکوک رقومات کی منتقلی کی اطلاعات کم فراہم کی جاتی ہیں، میں نے پوچھا کہ جو اطلاعات موصول ہوتی بھی ہیں تو ان میں سے کوئی آج تک پکڑا گیا ہے تو انہوں نے اس سے بھی انکار کیا‘۔

ملک بوستان نے عالمی بینک کے رویے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ’جو بینک مشکوک منتقلیوں کے زیادہ نام بھیجے وہ صحیح ہے اور جو کم نام بھیجے وہ صحیح نہیں۔ یہ رویہ نامناسب ہے‘۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے فیصلے سے چند روز پہلے پاکستان کے خفیہ اداروں نے حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ کالعدم تنظیموں کو پاکستان اور بیرونِ ملک سے ملکی اور غیر ملکی کرنسی میں سرمائے کی فراہمی کی جا رہی ہے، ان کالعدم تنظیموں نے بینکوں میں مختلف نئے ناموں سے اکاؤنٹس دوبارہ کھلوا لیے ہیں۔

معاشی ماہر اے بی شاہد کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے جو ترسیلات پاکستان آرہی ہیں، ملکی خفیہ اداروں کا خیال ہے کہ اس رقم کا ایک حصہ دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال ہورہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں غیر ملکی کرنسی کے کاروبار میں دس فیصد حصہ نجی مارکیٹ کا بھی ہے

’حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ پیسہ مشرق وسطیٰ ، خلیجی ممالک اور سعودی عرب سے آرہا ہے یہ وہ ممالک ہیں جو مغرب کے زیر اثر ہیں‘۔

پاکستان فاریکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک محمد بوستان تسلیم کرتے ہیں کہ باہر سے آنے والی رقومات کی زیادہ نگرانی نہیں کی جاتی۔

بقول ان کے باہر سے جو پیسہ آتا ہے دنیا کہتی ہے کہ ہم اس کا نہیں پوچھیں گے پھر چاہے یہ رقم چوری اور ڈکیتی سے آئے یا کسی اور طریقے سے ۔ ملک بوستان کی تجویز ہے کہ اس حوالے سے قانون سازی کی ضروت ہے جس ملک میں یہ رقم آئے اس کو انکم ٹیکس میں ظاہر کرنا لازمی قرار دیا جائے۔

پاکستان میں دو ہزار آٹھ میں غیر قانونی طریقے سے رقومات بیرون ملک بہیجنے کا ایک بڑا سکینڈل سامنے آیا، جس میں فاریکس کمپنی خانانی اینڈ کالیا کے مالکان سمت سات افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔

اس سکینڈل کے بعد پاکستان میں دو ہزار دس میں انٹی منی لانڈرنگ ایکٹ بنایا گیا ہے، جس میں ایک نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی فار کومبٹ منی لانڈرنگ بنائی گئی ہے جس کے چیئرمین وزیر خزانہ ہیں۔ فی الوقت منی لانڈرنگ کی روک تھام اور نگرانی کی ذمہ داری اسٹیٹ بینک اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے پاس ہے۔

قانون سازی کے باوجود پاکستان میں سب سے بڑے مالی اسکینڈل کے مرکزی کردار اس وقت ضمانت پر رہائی حاصل کر چکے ہیں۔

شہاب الدین سرکی خانانی اینڈ کالیا سکینڈل میں حکومت کی پیروی کرتے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ قانون تو موجود ہے مگر پراسیکیوشن کمزور ہے، جس کا فائدہ ملزمان کو ملتا ہے۔

ان کے مطابق ترسیلات کی آمد اور منتقلی کی سٹیٹ بینک کے ذریعے رپورٹنگ ہوتی ہے۔ منی ایکسچینج کمپنیاں ماضی میں صرف تیس فیصد رقومات کی تفصیلات بیان کرتی تھیں جبکہ ستر فیصد رقم غیر قانونی چینلز یعنی دبئی یا نیویارک کے ذریعے منتقل کر دیتی تھیں۔

انہوں نے بتایا قوانین میں سختی کے بعد فارین ایکسچینج کمپنیاں اپنی رویے میں تبدیلی لائی ہیں اس وقت ان کے ذریعے بڑی رقم پاکستان سے باہر یا باہر سے پاکستان منتقل نہیں کی جارہی ہے۔ رقومات کی منتقلی میں سرکاری مالیاتی اداروں اور بینکوں کا کردار بڑہ گیا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ بیرون ملک سے ترسیلات میں ریکارڈ اضافہ نظر آتا ہے۔

اسی بارے میں