خیبر ایجنسی: آٹھ رضاکار اور دو شدت پسند ہلاک

خیبر ایجنسی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن کے دوران حکام کے مطابق امن لشکر کے آٹھ رضا کار اور دو شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں کے مطابق یہ واقعہ رات گئے وادی تیراہ میں نری بابا کے مقام پر پیش آیا۔

اس واقعے میں امن لشکر کے چھ رضاکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اہلکاروں کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے قوم امن لشکر کے ایک مورچے پر حملہ کر کے مورچے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ مورچہ تھانہ مورچہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اہلکاروں نے بتایا کہ امن لشکر کے رضا کاروں نے مورچے کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے سیکیورٹی اہلکاروں کے ہمراہ جوابی کارروائی کی اور مورچے پر دوبارہ قبضہ کر لیا لیکن شدت پسندوں نے فرار ہوتے وقت اس مورچے میں ایک دیسی ساختہ بم نصب کر دیا تھا جس کے پھٹنے سے آٹھ رضا کار ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں۔

اہلکاروں نے بتایا کہ اس جھڑپ میں دو شدت پسند بھی مارے گئے ہیں۔

زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

خیبر ایجنسی کے مختلف مقامات پر سیکیورٹی فورسز نے آپریشن شروع کیا ہے جہاں سے آئے روز ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔

گزشتہ روز وادی تیراہ میں سنگر کے مقام پر شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں سترہ شدت پسند ، سیکیورٹی فورسز کے چار چار اہلکار اور امن لشکر کے تین رضا کار ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں