پاکستانی ردعمل پر حیرانی ہے: اختر مینگل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بلوچستان کے سابق وزیرِاعلیٰ اختر مینگل نے امریکی ایوانِ نمائندگان میں بلوچ عوام کے حق خود ارادیت کے بارے میں پیش کی جانے والی قرارداد کو مثبت قرار دیا ہے۔

قوم پرست جماعت بلوچ نینشل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس قرارداد کے نتیجےمیں پاکستان میں سامنے آنے والے ردعمل پر حیرانگی ہے۔

انہوں نے کہا ’حیرانگی اس بات پر ہے کہ اس (قرارداد) پر پاکستان میں اتنا شور مچایا جا رہا ہے۔ حکومت تو اپنی جگہ بلکہ تمام سیاسی جماعتوں نے بھی اس کو بڑا مسئلہ بنا دیا ہے۔‘

اختر مینگل نے کہا ’مجھے حیرانگی ہے کہ پاکستان کے اداروں اور سیاسی جماعتوں کو اس قرارداد کے کس لفظ پر اعتراض ہے۔ حق خود ارادیت پر یا بلوچستان پر؟‘ ان کا کہنا تھا ’اگر حق خودارادیت پر اعتراض ہے تو یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا سرفہرست آرٹیکل ہے اور پاکستان خود اقوام متحدہ کا رکن ہے۔‘

سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ’اگر ان کو یہ اعتراض ہے کہ خودارادیت کا لفظ بلوچستان کے لیے کیوں استعمال کیا گیا ہے تو پاکستان کے حکمران 1948 سے یہی نعرہ کشمیر کے لیے لگارہے ہیں۔ وہ کشمیر جو متحدہ ہندوستان کا حصہ تھا۔ جب حق خودارادیت ان کے لیے جائز ہوسکتی ہے تو بلوچستان کے لیے کیوں نہیں جو کبھی متحدہ ہندوستان کا حصہ تھا ہی نہیں؟‘

واضح رہے کہ امریکی رپبلکن پارٹی کے رکن اور خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین ڈینا روباکر نے امریکی ایوانِ ایوانِ نمائندگان میں جمعہ کو ایک قرارداد جمع کروائی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ بلوچ عوام کو حق خودارایت اور آزاد ملک کا حق حاصل ہے اور انہیں موقع ملنا چاہیے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں۔

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بلوچ عوام پر تشدد کیا جا رہا ہے اور وہاں ماورائے عدالت ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔

اختر مینگل نے یہ سوال اٹھایا کہ امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد پیش کرنے کے لیے حالات یا موقع کیوں فراہم کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا ’سابق اور موجودہ حکمرانوں کے کردار کی وجہ سے بلوچ نوجوانوں اور بزرگوں کی جو لاشیں پاکستان اور بلوچستان کے بیچ میں پڑی ہیں، جو خون بہایا گیا ہے، اس نے پاکستان اور بلوچستان کے درمیان بہت سے فاصلے بنا دیے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ حکمرانوں کی نیت اور رویوں میں کوئی تبدیلی آئی ہے اور اگر یہ رویے اور عزائم ایسے ہی رہے تو بلوچستان اور بھی دور چلا جائے گا۔‘

’باسٹھ سالوں میں بلوچستان کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے۔۔۔ آج شور مچانے والوں نے اپنی زبانیں کیوں بند کی ہوئی تھی؟ انہوں نے کیوں اپنی آنکھوں پر پٹیاں باندھی ہوئی تھیں؟ جہاں تک اس قرارداد کا تعلق ہے، ہم فی الحال اسے ایک اچھی پیش رفت ہی کہہ سکتے ہیں۔ اس میں صرف بلوچ عوام کی حق خود ارادیت کی ہی بات نہیں ہے بلکہ بلوچستان میں جو بلوچ قوم کی نسل کشی کی جارہی ہے اس کو مدِ نظر رکھ کر بھی یہ قرارداد پیش کی گئی ہے جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔‘

انہوں نے کہا ’پاکستان کی سیاسی جماعتیں جب اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو بلوچستان کی زیادتیوں پر مگرمچھ کے آنسوں بہاتی ہیں اور آج جب ان زیادتیوں کا ذکر ہورہا ہے تو اس پر یہ کیوں خفا ہورہے ہیں؟‘

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ساڑھے تین سو نوجوانوں کی لاشیں ملی ہیں اور ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں۔ ان نے الزام لگایا کہ اس کے پیچھے پاکستان کی فوج اور اس کے خفیہ اداروں کا ہاتھ ہے۔

بلوچستان کی قوم پرست تنظیم بلوچ نینشل وائس نے بھی بلوچستان کے معاملے پر امریکی ایوان نمائندگان میں پیش ہونے والی قرارداد کا خیر مقدم کیا ہے۔

دوسری جانب قوم پرست جماعت بلوچ نیشنل وائس کے ترجمان نے بھی امریکی ایوانِ نمائندگان کی قرارداد کا خیر مقدم کیا ہے۔

جماعت کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ’بلوچستان میں گمشدہ افراد کی لاشیں ملنے کا سلسلہ جولائی 2010 سے شروع ہوا تھا اور اب تک لگ بھگ چار سو گمشدہ افراد کی لاشیں مل چکی ہیں جن میں بیشتر اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اور سیاسی کارکن اور رہنماء ہیں۔‘

اسی بارے میں