قبل از وقت انتخابات پر بات ہو سکتی ہے: وزیر اعظم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption میثاق جمہوریت پر اسی فیصد عمل کر دیا ہے اب نواز شریف کو گلا نہیں ہو گا: وزیر اعظم

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ اگر موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرتی ہے تو نظام میں استحکام آئےگا لیکن قبل از وقت انتخابات پر بات کی جاسکتی ہے۔

یوسف رضا گیلانی نے پیر جو گوٹھ میں پیر پگارہ سے ملاقات کے بعد صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مارچ میں سینیٹ کے انتخابات کے بعد ان کی حکومت مئی میں بجٹ پیش کرے گی۔’اس کے بعد انتخابات کا سال شروع ہوجاتا ہے۔ قبل از وقت انتخابات کے امکان کو مسترد نہیں کرتے۔‘

وزیر اعظم نے کہا کہ میثاق جمہوریت پر اسی فیصد عمل کر دیا ہے اور انہیں امید ہے کہ میاں نواز شریف کو ان سے کوئی گلا نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف تو یہ بھی کہتے کہ صدر زرداری کی موجودگی میں انتخابات شفاف اور غیر جانبدار نہیں ہوسکتے مگر بیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے ملک میں آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کو یقینی بنا دیا گیا ہے۔

’اب قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف مل کر فیصلہ کریں گے کہ نگران سیٹ اپ کیا ہو گا اور نگران وزیر اعظم کسے بننا چاہیے۔ اسی طرح صوبے فیصلہ کریں گے کہ نگران وزیر اعلیٰ کسے بنایا جائے۔‘

وزیر اعظم کی توجہ اس بیان پر دلائی گئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر سپریم کورٹ نے ان پر فرد جرم لاگو کر دی تو وہ مستعفی ہوجائیں گے، تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ بیان اعتزاز احسن کے عدالت میں پیش ہونے سے پہلے دیا تھا۔ ’اب اس سے متعلق تمام جواب میرے وکیل ہی بہتر دے سکتے ہیں۔‘

وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ نواز شریف نے خود ایک مرتبہ کہا تھا کہ صدر کو استثنیٰ حاصل ہے۔’ اب ان کا خیال تبدیل ہوگیا ہے تو وہ اس بارے میں کچھ تبصرہ نہیں کریں گے کیونکہ یہ معاملہ اب عدالت میں زیر سماعت ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ شہادت تو نصیب والوں کو ملتی ہے اب وہ غازی ہوں گے یا شہید۔’ دونوں میں سے ایک چیز تو ملے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے خلاف ہی نہیں ہر جمہوری حکومت کے خلاف سازشیں ہوتی رہی ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو جمہوریت اور ادارے مستحکم ہوتے۔

بلوچستان کے بارے میں کانگریس کی قرار داد کے حوالے سے یوسف رضا گیلانی نے بتایا کہ اس معاملے پر ایک کل جماعتی کانفرنس بلائی جائے گی تاکہ اجتماعی سوچ کے ساتھ کوئی حل نکالا جا سکے۔

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ کئی لوگ انڈیا کو ’موسٹ فیورڈ نیشن‘ کا درجہ دینے کو سمجھ نہیں سکے ہیں۔’اس سے کوئی ملک موسٹ فیورٹ فرینڈ نہیں بن جاتا ہے۔ موسٹ فیورٹ نیشن کا مطلب ہے بلا امتیاز۔‘

وزیر اعظم نے کہا کہ’جب پاکستان بنا تھا تو محمد علی جناح نے انڈیا کو یہ ہی اعزاز دیا تھا۔ پاکستان کے سو ممالک کے ساتھ اس قسم کے تعلقات ہیں۔‘

انہوں نے بھارت کے تجارتی عدم توازن کےحوالے سے بتایا کہ کابینہ ڈویژن نے وزارت تجارت کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ وزرات تجارت انڈیا سے بات کر کے کہ اس میں کیسے توازن لایا جاسکتا ہے۔ دونوں ممالک اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر کام کریں گے۔‘