پاراچنار میں دہشت گردی کے خلاف ریلی

ریلی تصویر کے کاپی رائٹ AFPGetty Images
Image caption ریلی اسلام آباد پریس کلب سے پارلیمنٹ ہاؤس تک نکالی گئی

یوتھ آف پارا چنار کی طرف سے کرم ایجنسی اور بالخصوص پارا چنار میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

یہ ریلی اسلام آباد پریس کلب سے پارلیمنٹ ہاؤس تک نکالی گئی جس میں پارا چنار کے سینکڑوں افراد نے شرکت کی اور انہوں نے امریکہ، طالبان اور حکومتِ پاکستان کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔

طوری بنگش قبائل کے رہنماؤں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ، طالبان اور حکومتِ پاکستان قبائلی علاقوں خاص طور پر پارا چنار کے لوگوں کی نسل کشی کرنے کےلیے آپس میں ملے ہوئے ہیں۔

پارا چنار سے تعلق رکھنے والے سابق ایم این اے سید منیر حسین نے بی بی سی کے نامہ نگار حفیظ چاچڑ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقے اور پارا چنار گزشتہ پانچ برسوں سے مسائل کا شکار ہیں اور کبھی اس کو شیعہ سنی فساد کا نام دیا جا رہا ہے تو کبھی دہشت گردی کا نام دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کی وجہ سے گزشتہ پانچ برسوں میں پارا چنار کے تقریباً پندرہ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ہزاروں معذور ہوئے ہیں جبکہ اس سے سینکڑوں خاندان بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صورتحال کی خرابی کا کبھی امریکہ پر الزام لگایا جاتا ہے تو کبھی نیٹو افواج کو اس کا ذمے دار ٹھرایا جاتا ہے لیکن پاکستان کے اندر وہ لوگ موجود ہیں جو دہشت گردی کرتے ہیں اور شیعہ سنی فساد کرواتے ہیں۔

سید منیر حسین کے مطابق بہت سے طاقتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں اور پاکستان کے خفیہ اداروں کی ذمے داری ہے کہ وہ ان طاقتوں کی نشاندہی کریں اور اس کا مقابلہ کریں لیکن وہ اس کام میں بلکل ناکام ہو گئے ہیں۔

یوتھ آف پارا چنار کے عہدیدار ساجد حسین نے بتایا کہ پارا چنار کے طوری بنگش قبائل جنہوں نے پاکستان بننے سے پہلے دلی جاکر قائداعظم سے ملاقات کی اور انہوں نے استحکامِ پاکستان کے لیے قربانیاں دیں لیکن آج انہیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ پاکستان کے مخالف ہیں اور جنہوں نے قائداعظم کو برا بھلا کہا تھا، جنہوں نے اس ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں ان کو ریاستی پروٹوکول دیا جا رہا ہے اور ان کی مکمل طور حمایت کی جا رہی ہے۔

ساجد حسین کے مطابق پارا چنار کے طوری بنگش قبائل مہذب اور تعلیم یافتہ ہیں اور وہ اپنے علاقے کو دوسرا وزیرستان نہیں بنانا چاہتے اس لیے ایک طرف انہیں طالبان مار رہے ہیں اور دوسری طرف سکیورٹی فورسز کے ٹینک پارا چنار کے لوگوں کو کچل رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے اداروں میں کچھ کالی بھیڑیں ہیں جو پارا چنار کے محبِ وطن لوگوں کو تباہ کرنا چاہتی ہیں۔

مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پارا چنار میں گزشتہ جمعے کو ہونے والے خودکش حملے کی ذمے داری قبول کرنے والے طالبان کمانڈر کے خلاف کارروائی کی جائے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور اس خودکش حملے کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے۔

اسی بارے میں