کرم میں طالبان کمانڈر کے گھر مسمار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ چار دن قبل مبینہ طورپر پارہ چنار خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے والے طالبان کمانڈر فضل سعید حقانی کے تین مکانات کو تباہ کردیا گیا ہے۔

پشاور میں فرنٹیر کور کے ایک ترجمان نے بی بی سی کے استفسار پر تصدیق کی کہ پیر کی صبح سکیورٹی فورسز نے لوئر کرم ایجنسی کے علاقے اوچت کلی میں سرچ آپریشن کے دوران طالبان کمانڈر فضل سعید حقانی کے تین مکانات اور حجروں کو مسمار کردیا ہے۔ آپریشن کے دوران آس پاس کے مقامات میں کرفیو نافذ کرکے تمام علاقہ سیل کردیا گیا تھا۔

لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آپریشن میں طالبان کمانڈر اور ان کے رشتہ داروں کے چار مکانات، دو حجرے اور ایک پیٹرول پمپ کو تباہ کیاگیا جبکہ ان میں فضل سعید کا اپنا ایک گھر اور حجرہ بھی شامل ہے۔

جمعہ کو کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں چالیس کے قریب افراد ہلاک اور پچاس سے زآئد زخمی ہوئے تھے۔ مقامی صحافیوں اور اخباری اطلاعات کے مطابق اس دھماکے کی ذمہ داری طالبان کمانڈر فضل سعید حقانی نے قبول کرلی تھی۔

خیال رہے کہ اس حملے کے بعد کرم ایجنسی میں حالات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہوگئے ہیں جبکہ حال ہی میں کھولی جانے والی واحد مرکزی ٹل پارہ چنار شاہراہ بھی غیر اعلانیہ طورپر بند کردی گئی ہے۔اس سے قبل یہ شاہراہ تقریباً چار سال تک بند رہی تھی تاہم امن معاہدہ کے بعد یہ واحد راستہ فریقین کے رضامندی سے چند ماہ قبل ہی کھول دیا گیا تھا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ طالبان کمانڈر فضل سعید حقانی نے گزشتہ سال جون میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے منحرف ہوکر ’ تحریک طالبان اسلامی پاکستان ’ کے نام سے ایک الگ گروپ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے صحافیوں سے ملاقات میں خودکش حملوں، بازاروں اور مساجد پر ہونے والے حملوں کو حرام قرار دیا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس طرح کی حملوں کی اسلام قطعی طورپر اجازت نہیں دیتا بلکہ ان کے مطابق یہ کھلی دہشت گردی ہے۔

فضل سعید حقانی کا تعلق بنیادی طورپر اورکزئی کے زمشت قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے اکوڑہ خٹک کے مشہور اسلامی مدرسہ دارالعلوم حقانیہ سے دینی تعلیم حاصل کی ہے ۔ وہ عالم دین اور مفتی بھی بتائے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں