ایجنسیوں کے اختیارات، کمی کی تجویز

لاپتہ افراد کا احتجاجی کیمپ
Image caption گزشتہ چند ماہ میں لاپتہ افراد کا معاملہ زیادہ سنگین صورت میں ذرائع ابلاغ میں آیا ہے۔

پاکستان میں انٹیلی جنس اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے افراد کی جلد بازیابی اور ایجنسیوں کے اختیارات میں کمی کے لیے آئین میں ترمیم کا بل پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں پیش کیا گیا ہے۔

آئینی ترمیم کا یہ بل جماعت اسلامی کے سینیٹرز پروفیسر خورشید احمد، پروفیسر محمد ابراہیم اور مسمات عافیہ ضیاء نے پیر کو سینیٹ میں نجی کارروائی کے دن پیش کیا جس کو مزید غوروخوض کے لیے قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔

اس ترمیمی بل کے ذریعے آئین کی بنیادی حقوق سے متعلق دو شقوں، نو اور دس میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ شق نمبر نو میں ترمیم تجویز کی گئی ہے کہ کسی بھی پاکستانی شہری کو صوبائی ہائی کورٹ کی اجازت کے بناء غیر ملکی قبضے میں نہ دیا جائے۔

جبکہ شق نمبر دس، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی کے معاملے میں گرفتار کسی بھی شخص کو عدالتی نظر ثانی بورڈ کی منظوری کے بنا تین ماہ سے زائد عرصے تک زیرِ حراست نہیں رکھا جاسکتا۔ اس شق میں ترمیم تجویز کی گئی ہے کہ حراست کی مدت ایک ماہ سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔

آئین کی شق دس کی ذیلی شق پانچ میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کے معاملے میں زیرِ حراست شخص کو حراست کے دن سے پندرہ روز کے اندر یہ بتایا جانا لازم ہے کہ انہیں کس وجہ سے حراست میں رکھا گیا ہے اور انہیں مجاز حکام کے اس حکم کے خلاف جلد قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے۔

لیکن جماعت اسلامی نے اپنے ترمیمی بل میں تجویز کیا ہے کہ پندرہ روز کے بجائے جتنا جلد ممکن ہوسکے۔ لیکن ایک ہفتے سے زائد نہیں۔۔۔ ایسے افراد کو اپنے خاندانوں کے ساتھ رابطہ قائم کرایا جائے گا اور اپنے پسند کے وکیل کا حق دینے کے فقروں کا اضافہ تجویز کیا ہے۔

شق دس کی ذیلی شق چھ میں تجویز کیا گیا ہے کہ زیر حراست شخص کے خلاف الزامات کے ثبوت مفاد عامہ میں سامنے نہ لانے کے الفاظ حذف کرنے کی تجویز ہے۔

پاکستان میں انٹیلی جنس اداروں کے ہاتھوں مبینہ طور پر جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تو پانچ برس سے زائد عرصے سے جاری ہے لیکن جماعت اسلامی نے اس بارے میں قانون سازی کے لیے آئینی ترمیم کا بل اب پیش کیا ہے۔

جماعت اسلامی کے سینیٹرز آئندہ ماہ کے وسط تک ریٹائر ہوجائیں گے اور کسی بھی صوبائی اسمبلی میں نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے ان کا کوئی سینیٹر آئندہ ماہ منتخب نہیں ہوسکے گا۔ ماضی کی روایات کےمطابق جب بل پیش کرنے والا سینیٹر ریٹائر ہوجاتا ہے تو وہ معاملہ ویسے ہی دفن ہوجاتا ہے۔

اسی بارے میں