’ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے جرح ممکن نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی افواج کے سابق سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کے نام لکھے گئے متنازع مراسلے کی تفتیش کرنے والے کمیشن میں حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری نے کہا ہے کہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے گواہ پر جرح ممکن نہیں ہے۔

’میمو کمیشن‘ کے نام سے مشہور اس عدالتی کمیشن کا اجلاس جسٹس فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بدھ کو اسلام آباد میں ہو گا جس میں ویڈیو لنک کے ذریعے اس تنازعے کے مرکزی کردار منصور اعجاز کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔

منصور اعجاز نے اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے لیے پاکستان آنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد لندن سے ان کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے گا۔

اس مقدمے کے وکیل صفائی زاہد بخاری نے کہا ہے کہ وہ بروقت ویزا نہ ملنے کے باعث لندن نہیں جا سکے اور ویڈیو لنک کے ذریعے کسی بھی گواہ پر جرح ممکن نہیں ہے۔

جرح کے دوران گواہ اور وکیل کی باڈی لینگوئج کی بہت اہمیت ہوتی ہے اور ویڈیو لنک جرح کے دیگر لوازمات بھی پوری نہیں کر سکتا اس لیے میں ویڈیو لنک کے ذریعے جرح نہیں کروں گا۔‘

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار آصف فاروقی نے بتایا کہ حسین حقانی کے وکیل کے مطابق وہ عدالت سے درخواست کریں گے کہ ان کے لندن پہنچنے تک بیان کو ریکارڈ نہ کیا جائے اور مقدمے کی کارروائی ملتوی کی جائے۔

یاد رہے کہ اس کمیشن کو کارروائی مکمل کرنے کے لیے دہ ماہ کی مہلت دی گئی تھی لیکن منصور اعجاز کی جانب سے بیان ریکارڈ کروانے میں تاخیر کے باعث اس کمیشن کو مزید دو ماہ کی مہلت دی گئی تھی۔

زاہد بخاری نے کہا کہ منصور اعجاز کی وجہ سے اس مقدمے میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو گئی ہے اور اگر قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ایک بار پھر یہ مقدمہ التوا کا شکار ہوتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اسی بارے میں