علاقائی زبانیں کیا، اردو بھی سرکاری زبان نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ

مادری زبان کا عالمی دن اگرچہ اقوامِ متحدہ کے تحت ہر سال سنہ انیس سو ننانوے سے منایا جا رہا ہے لیکن اس کی جڑیں سنہ انیس سو باون کے متحدہ پاکستان میں پیوست ہیں جب ملک کی تشکیل کے فوراً بعد اردو کو قومی زبان قرار دے کر مقامی زبانیں بولنے والوں کو احساسِ محرومی سے دوچار کر دیا گیا۔

اس وقت پاکستان کی کُل آبادی کے چھپن فیصد کی زبان بنگالی تھی۔ بنگالیوں کا محض یہ مطالبہ تھا کہ اردو کو اگر رابطے کی زبان ہونے کے ناطے قومی درجہ دیا جا رہا ہے تو بنگالی کو بھی قومی زبان سمجھنے میں کیا قباحت ہے؟ اس سوال کا محمد علی جناح سمیت کسی کے پاس بھی کوئی تشفی بخش جواب نہیں تھا بلکہ الٹا یہ سوال اٹھانے والوں کی حب الوطنی پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا گیا۔

اکیس فروری سنہ انیس سو باون کو لسانی پریشر کُکر پھٹ گیا اور ڈھاکہ میں پولیس نے بنگالی زبان کو قومی درجہ دینے کے حامیوں پر گولی چلادی جس کے نتیجے میں آٹھ طلباء ہلاک ہوئے۔

ان کی یادگار کے طور پر شہید مینار بنایا گیا جو بعد میں بنگالی قوم پرستی کا اہم نشان بن گیا۔ مارچ سنہ انیس سو اکہتر میں جب فوج نے مشرقی پاکستان میں آپریشن سرچ لائٹ شروع کیا تو یہ شہید مینار بھی پہلے ہی ہلے میں گولوں سے ڈھا دیا گیا۔

بنگالی لسانی تحریک اتنی اہم تھی کہ اس کے اعتراف میں اقوامِ متحدہ نےسینتالیس برس بعد اکیس فروری کو مادری زبان کا عالمی دن قرار دیا۔

اگرچہ بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک نے مادری زبانوں کی اہمیت مان لی ہے اور وہ اس ضرورت کو تسلیم بھی کرتے ہیں کہ ہر بچے کو اپنی مادری زبان میں تعلیم کا حق حاصل ہے اور تمام زبانوں کی بلا امتیاز ترویج و ترقی شہریوں کے بنیادی حقوق اور ریاستی فرائض کا حصہ ہے۔

دنیا میں کئی ممالک ایسے بھی ہیں جو اب تک لسانی سامراجیت پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔

ترکی کی بیس فیصد آبادی کرد زبان بولتی ہے مگر کردوں کو اپنی زبان کی سرکاری حیثیت منوانے اور اس میں نشریات و اشاعت اور تعلیم کے حق کے حصول کے لیے برسوں قربانیاں دینا پڑیں، تب جا کے ترک اسٹیبلشمنٹ نے یورپی یونین کے دباؤ میں کرد زبان کو سرکاری حیثیت دی۔ اگرچہ عراق میں کرد زبان کو صدام حسین کے زوال کے بعد سرکاری درجہ مل گیا لیکن ایران اور شام میں آباد کرد اقلیت تاحال لسانی آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہے۔

پاکستان ایک کثیر السان ملک ہے لیکن یہاں علاقائی زبانوں کی اہمیت اور مقام پر چونسٹھ برس بعد بھی مباحثہ جاری ہے۔ آئین میں گو مقامی زبانوں کے تحفظ اور فروغ کا حق تسلیم کیا گیا ہے مگر سوائے سندھی کے کسی بھی علاقائی زبان کو سرکاری درجہ نہیں مل پایا۔

صوبہ خیبر پختون خواہ میں پشتو اور بلوچستان میں بلوچی ابتدائی تعلیمی درجات میں ضرور پڑھائی جاتی ہے جبکہ ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں پنجابی زبان کی ترویج و اشاعت کی سرکاری سطح پر کبھی بھی سنجیدگی سےضرورت محسوس نہیں کی گئی اور عوامی سطح پر پنجابی زبان اپنانے اور اس کے سٹیٹس کی بات بھی محض چند دانشوروں تک ہی محدود رہی۔

سرائیکی زبان اگرچہ چاروں صوبوں میں بولی جاتی ہے لیکن اس کی ترویج و فروغ کا حال بھی پنجابی سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ یہ مباحثہ بھی ہنوز جاری ہے کہ سرائیکی علیحدہ سے کوئی زبان ہے یا پنجابی کی ایک جنوبی شاخ ہے۔

مادری زبان کا تحفظ مادری زبان بولنے والا ہی کرسکتا ہے مگر جہاں ماحول یہ ہو کہ زرا سا بھی صاحبِ وسیلہ شخص یہ فرض کر کے اپنے بچوں سے اردو یا انگریزی میں بات کرنے کو ترجیح دیتا ہو کہ مادری زبان بولنا پسماندہ اور آؤٹ آف فیشن ہونے کی نشانی ہے وہاں مادری زبان اگر لسانی درجے سے گر کر محض بولی کے درجے پر آجائے تو باعثِ حیرت نہیں۔

اچھی بات یہ ہے کہ مادری زبان کو ثانوی درجے پر رکھنے کی نفسیات زیادہ تر شہری علاقوں میں پائی جاتی ہے۔دیہی علاقوں میں عام بول چال کی زبان مادری ہی ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کے ابتدائی ادوار کی لسانی پالیسیوں نے جو لسانی احساسِ کمتری پیدا کیا تھا وہ بھی رفتہ رفتہ مدہم ہوتا جارہا ہے۔اس کا ایک ثبوت مقامی زبانوں کے الیکٹرونک و اشاعتی میڈیا کی تیز رفتار ترقی بھی ہے۔

اگرچہ حکومتوں نے مقامی زبانوں کی سرپرستی اور ترقی کے لیے بلوچی، پشتو، سندھی اور پنجابی لینگویج اتھارٹیز اور ادبی بورڈ بھی قائم کیے ہیں اور کئی یونیورسٹیوں میں علاقائی زبانوں میں ڈگری کورسز بھی پڑھائے جاتے ہیں تاہم علاقائی زبانوں میں ڈگری کی معاشی اہمیت چونکہ محدود ہے لہذا روزگار کے ناطے ان زبانوں کو صرف ماں بولی کے احترام کے سوا عملاً کچھ نہیں ملتا۔

علاقائی زبانیں تو رہیں ایک طرف، فی زمانہ تو اردو بھی عملاً سرکاری زبان نہیں ہے اور اسے بھی گلوبل ولیج میں انگریزی کی یلغار و ضرورت کے سبب علاقائی زبانوں کے خیمے میں پناہ لینی پڑ گئی ہے۔

اسی بارے میں