بلوچستان کی آزادی تک جنگ رہے گی: براہمداغ بگٹی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا کو اچانک ہماری یاد آ گئی ہے: براہمداغ بگٹی

بلوچ ری پبلیکن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ براہمداغ بگٹی نے بلوچستان کے مسئلے پر آل پارٹی اجلاس بلانے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جدوجہد بلوچستان کی آزادی تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا بلوچ عوام آزادی کے لیے مذید قربانیاں دینے کے لیے تیار ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بلوچ ری پبلیکن پارٹی کے سربراہ براہمداغ بگٹی نے بدھ کو پریس کلب کوئٹہ میں صحافیوں سے ٹیلیفونک خطاب میں کہا ہے کہ بلوچستان کے اکثرعلاقوں جن میں کوہلو، کاہان، ڈیرہ بگٹی اور مکران ڈویژن میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور سیاسی رہنماؤں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ دو سالوں سے بلوچوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور بلوچ سیاسی کارکن، استاد، طالبعلم، لکھاری، شاعر، وکلاء اور ڈاکٹروں کو قتل کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جا رہی ہیں۔

براہمداغ بگٹی نےامریکہ میں بلوچستان کی انسانی حقوق کی صورتحال پر کمیٹی بنانے اور بعد میں مسئلہ بلوچستان پر امریکی کانگریس میں قرارداد آنے کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو نہ پہلے بلوچستان کے مسئلے سے دلچسپی تھا اور نہ اب ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے الیکٹرونک میڈیا کو گذشتہ دو سالوں میں کبھی بلوچستان یاد نہیں آیا لیکن آج کل ہر خبر میں بلوچستان کا ذکرکر رہے ہیں۔’ان کی دلچسپی بلوچستان سے نہیں بلکہ پنجاب سے ہے اور یہ سوچ رہے کہ اگر امریکہ نے بلوچستان کے مسئلے پر پاکستان سے آنکھیں پھیر لی تو پنجاب کے استحکام کو خطرہ لاحق ہوسکتاہے۔‘

براہمداغ بگٹی نے کہا کہ امریکہ کے اعلان کے بعد پاکستان اور پنجاب کے حکمرانوں کو ایک دم بلوچ عوام سے ہمدردی پیدا ہوگئی اور انہوں نے بلوچستان کے دورے بھی شروع کر دیے ہیں اور بلوچ قائدین سے ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں۔

براہمداغ بگٹی نے وزیراعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی اور گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عارضی مفاد چھوڑ کر اس کٹھ پتلی حکومت سے علیحدگی اختیار کرکے بلوچ قومی تحریک میں شامل ہوجائیں۔

بلوچستان کے مسئلے پر آل پارٹی کانفرنس بلانےسے متعلق ایک سوال پر براہمداغ بگٹی نے کہا ’وہ ایک ہاتھ سےتو ہماری ماؤں اور بہنوں کو قتل کر رہے ہیں تو دوسری ہاتھ سے وہ لوگ ہمیں دلاسا دے رہے ہیں جوکہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔‘

براہمداغ بگٹی نے کہا کہ ایک طرف بلوچوں کو فوج اور ایجنسیوں کے ذریعے مارا جا رہا تودوسری جانب ہم سے فیڈریشن میں شامل رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

امریکی کانگریس میں پیش ہونے والے قرارداد میں بلوچوں کو پاکستان ، ایران اور افغانسان میں تقسیم کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ براہمداغ بگٹی سے جب اس حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ’اس وقت تو بلوچستان کی آزادی کی بات ہو رہی ہے سب سے پہلے ہم اپنے آپ کو تو آزاد کرالیں بعد میں ان کی مرضی ہے کہ وہ ہمارے ساتھ آناچاہتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ہم صرف بلوچستان میں بلوچ سرزمین پر آباد بلوچ عوام کی آزادی کی بات کر رہے ہیں۔

براہمداغ بگٹی نے کہا کہ جس طرح بنگلہ دیش میں خواتین کے ساتھ جبر ہوا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو قتل کیاگیا لیکن بلوچستان میں ایسی صورتحال نہیں ہے۔’ البتہ لوگوں کو اٹھانا اور ویرانوں میں لاشیں پھنکنا کسی بڑے ظلم سے کم نہیں ہے۔‘

براہمداغ بگٹی نے کہا کہ بلوچ اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہونگے ۔’ انہوں نے نواب بگٹی، نوابزادہ بالاچ مری، غلام محمد، شیر محمد اور لالامنیر کے علاوہ سنیکڑوں نوجوانوں کو مارا ہے لیکن اس سے تحریک کم نہیں بلکہ مذید تیز ہوئی ہے۔‘

یاد رہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراخترمینگل اور بلوچ قوم پرست رہنماء نوابزادہ حیربیار مری نے پہلے ہی مسئلہ بلوچستان پر بلائی جانے والی آل کانفرنس کو مسترد کرتے ہوئے اس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔