’پیغام زبانی طور پر پہنچانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا‘

منصور اعجاز تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption منصور اعجاز کی جانب سے بیان ریکارڈ کروانے میں تاخیر کے باعث اس کمیشن کو مزید دو ماہ کی مہلت دی گئی

امریکی شہری منصور اعجاز کا کہنا ہے کہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سیفر حسین حقانی نے پیغام زبانی طور پر امریکی افواج کے سابق سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کو پہنچانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

امریکی شہری منصور اعجاز نے متنازع میمو کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کو بدھ کو اپنا بیان ریکارڈ کروایا جس کی سربراہی بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائض عیسی کر رہے ہیں۔ منصور اعجاز کا بیان ابھی مکمل نہیں ہوا اور سماعت جمعرات کو بھی جاری رہے گی۔

منصور اعجاز نے اپنے بیان میں دو مئی کے واقعہ کے بعد امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی اور ان کے درمیان بلیک بیری پر ہونے والے رابطوں کے بارے میں بتایا۔

منصور اعجاز نے بلیک بیری سے پیغامات بھی پڑھے جس کی تصدیق لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں موجود کمشین کے سیکرٹری نے کی۔

منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ نو مئی سنہ دو ہزار گیارہ کو حسین حقانی سے لندن میں ٹیلی فون پر رابطہ ہوا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دو مئی سنہ دو ہزار گیارہ کے واقعہ کے بعد جس میں القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں امریکی سیکورٹی فورسز نے ہلاک کردیا تھا، پاکستانی فوج صدر زرداری اور موجود حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے اور فوج حکومت کو ہٹانا چاہتی ہے لہذا امریکی افواج پاکستانی افواج کو ایسا کرنے سے روکیں۔

انہوں نے کہا کہ حسین حقانی چاہتے تھے کہ امریکی افواج جلد از جلد پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو یہ پیغام دیں کہ وہ موجودہ جمہوری حکومت کا تختہ نہ الٹیں۔

انہوں نے کہا کہ اس گفتگو میں حسین حقانی نے پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو ختم کرنے ، پاکستان کے ایمٹی پروگرام کو مذید ڈسپلن میں لانے اور امریکہ کی خواہش کے مطابق ممبئی حملوں کی تحقیقات میں بھارتی حکومت کے ساتھ پاکستانی حکومت کے مذید تعاون کا اشارہ بھی دیا۔

منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ اس ٹیلکی فونک گفتگو میں حسین حقانی نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ یہ پیغام اس وقت کے امریکی مسلح افواج کے کمانڈر ایڈمرل مائیک مولن کو پہنچایا جائے۔

منصور اعجاز نے کہا کہ انہوں نے حسین حقانی کو بتایا تھا کہ وہ مائیک مولن ان کے دوست نہیں ہیں تاہم وہ ایسے افراد تلاش کریں گے جو مائیک مولن کے دوست ہیں۔

منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز ان کے دوست ہیں اور یہ بات امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی بھی جانتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جیمز جونز نے پوچھا تھا کہ کے اس معاملے میں حسین حقانی کو پاکستانی شخصیات کی حمایت بھی حاصل ہے جس پر منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ انہوں نے جنرل جیمز جونز سے کہا تھا کہ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ یہ پیغام کتنی اہمیت کا حامل ہے یا اس کی مستند ہونے کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حسین حقانی کے ساتھ گفتگو میں کچھ خفیہ کوڈ بھی رکھے گئے تھے جو آئندہ گفتگو میں استعمال ہوں گے اس میں امریکہ کو اصفحانی، پاکستانی حکومت کو فرینڈز اور صدر زرداری کے لیے فرینڈ اور باس کا لفظ استعمال ہوگا۔

منصور اعجاز نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ انہوں نے سنہ دو ہزار تین میں اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل احسان الحق سے بھی ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف سے سنہ دو ہزار پانچ یا چھ میں لندن میں ملاقات کی تھی۔

منصور اعجاز کے مطابق انہوں نے پاکستان کے صدر آصف علی زردای سے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی خواہش پر مئی سنہ دو ہزار نو میں ملاقات کی تھی اور انہیں امریکی کانگریس میں اس وقت جو سیاسی معاملات چل رہے تھے اس کے متعلق بھی آگاہ کیا تھا۔

منصور اعجاز نے حسین حقانی کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک کالوں کا ریکارڈ بھی کمیشن کے سیکرٹری کے حوالے کیا۔

لندن میں پاکستانی سفارت خانے میں ویڈیو کانفرنسگ کا انتظام کیا گیا تھا جہاں سے منصور اعجاز نے اسلام آباد میں موجود کمشین کے سامنے اپنا بیان قلمبند کرایا۔

لندن میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار فراز ہاشمی نے بتایا کہ منصور اعجاز مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بج کر پینتالیس منٹ پر پاکستانی ہائی کمیشن ایک ٹیکسی کے ذریعے پہنچے۔ سفارت خانے کی مرکزی عمارت کے ایک کمرے میں ویڈیو کانفرنسگ کا انتظام تھا اور اس کمرے میں اخبار نویسوں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ دورانِ کانفرنس اس کمرے میں صرف منصور اعجاز، نواز شریف کے وکلاء کی پانچ رکنی ٹیم اور کمیشن کے سیکریٹری راجہ جواد موجود رہے۔

منصور اعجاز نے سفارت خانے کی عمارت میں جاتے وقت اور سماعت کے بعد وہاں سے باہر نکلتے وقت ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے کسی سوال کو کوئی جواب نہیں دیا۔

نواز شریف کے وکیل رشید رضوی نے سماعت کے بعد اخبار نویسوں سے کہا کہ ابھی سماعت چل رہی ہے اور منصور اعجاز کا بیان ختم نہیں ہوا۔

انھوں نے قانونی اصطلاح میں کہا کہ ’ایگزامینیشن ان چیف‘ چل رہا ہے اورآپ اسے نہیں سمجھ سکتے۔ نواز شریف کے وکلاء کی ٹیم میں شامل ایک اور وکیل نے کہا کہ ایسے کاموں میں وقت لگتا ہے اور اس میں مزید وقت لگے گا۔

اس سے پہلے حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری اور اٹارنی جنرل انوار الحق نے منصور اعجاز کا بیان ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ریکارڈ کرنے پر اعتراض کیا تھا۔ اس کے علاوہ بلیک بیری کے ذریعے پیغامات کے مستند ہونے کے بارے میں بھی اعتراضات اٹھائے تھے۔

زاہد بخاری نے کہا کہ قانونِ شہادت ایکٹ کے مطابق یہ پیغامات اس وقت تک مستند نہیں ہو سکتے جب تک فرنزک ماہرین اس کی تصدیق نہ کریں۔ انہوں نے کمیشن سے درخواست کی کہ انہیں لندن جانے کی اجازت دی جائے کیونکہ وہ وہاں جاکر ہی منصور اعجاز پر جرح کریں گے۔

منصور اعجاز جمعرات کو بھی کمیشن کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے اور پھر اس کے بعد ان پر حسین حقانی کے وکیل جرح کریں گے۔

یاد رہے کہ اس کمیشن کو کارروائی مکمل کرنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی گئی تھی لیکن منصور اعجاز کی جانب سے بیان ریکارڈ کروانے میں تاخیر کے باعث اس کمیشن کو مذید دو ماہ کی مہلت دی گئی تھی۔

اسی بارے میں