ایم آئی کے سابق میجر کراچی سے لاپتہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میجر اسید زاہدی آئی ایس آئی کی غیر قانونی تحویل میں ہیں: بیگم زاہدی

کراچی میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا حصہ رہنے والے پاکستانی فوج کے انٹیلی جنس ادارے (ملٹری انٹیلی جنس) کے سابق اہلکار میجر اسید زاہدی کی اہلیہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے شوہر ڈیڑھ سال سے انٹر سروسز انٹیلی جنس یا آئی ایس آئی کی غیر قانونی حراست میں ہیں۔

میجر ریٹائرڈ اسید سنہ دو ہزار آٹھ تک کراچی میں ملٹری انٹیلی جنس میں تعینات تھے اور اس دوران ان کی ذمہ داریوں میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لینا بھی شامل تھا۔

وہ سنہ دو ہزار آٹھ میں ریٹائر ہوئے اور اکتوبر دو ہزار دس سے لاپتہ ہیں۔

ان کی اہلیہ عدیلہ اسید نے بی بی سی کو ایک انٹریو کے دوران الزام عائد کیا کہ ان کے پاس مختلف ذرائع سے ایسی اطلاعات موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ میجر اسید زاہدی آئی ایس آئی کی غیر قانونی تحویل میں ہیں۔

پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

بیگم عدیلہ اسید نے اپنے شوہر کو باضابطہ طور پر لاپتہ قرار دے کر ان کا معاملہ لاپتہ افراد کے عدالتی کمیشن کے حوالے کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں اس کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال سے ملاقات کے بعد بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر کو فوجی بیرکس میں رکھا گیا ہے جہاں ان سے معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

’ڈیڑھ سال میں نہ میری کبھی ان سے بات کروائی گئی اور نہ ہی کسی فوجی یا سرکاری اہلکار نے یہ تسلیم کیا کہ وہ ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں۔‘

بیگم عدیلہ نے مطالبہ کیا کہ ان کے شوہر کو رہا کیا جائے یا ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

’ہمیں کم از کم یہ ہی بتا دیا جائے کہ وہ زندہ بھی ہیں اور کس حال میں ہیں۔ ان کا قصور کیا ہے اور ان کے خلاف کس جرم کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔‘

بیگم عدیلہ نے کہا کہ میجر اسید کے بڑے بھائی جنید زاہدی جب ان کی تلاش میں نکلے تو انہیں بھی قتل کر دیا گیا۔

’جنید زاہدی کو معلوم ہو گیا تھا کہ ان کے بھائی کو کہاں رکھا گیا ہے اور اس سلسلے میں ان کے پاس کچھ شہادتیں بھی تھیں۔ پھر انہیں قتل کر دیا گیا جس کے ساتھ ہی وہ تمام شہادتیں بھی اب ہمارے پاس نہیں ہیں۔ ان کی لاش ملیر کینٹ (کراچی) کی حدود سے ملی۔‘

عدیلہ اسید نے کہا کہ ان کے شوہر ملٹری انٹیلی جنس اور فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ عرصے کے لیے انٹر سروسز انٹیلی جنس کے لیے بھی کام کرتے رہے لیکن یہ معاملہ زیادہ عرصہ نہ چل سکا۔

انہوں نے کہا کہ گمشدگی سے کچھ عرصہ پہلے انہوں نے کراچی کے قریب زرعی اراضی لے کر اس پر کاشتکاری کا کام شروع کر رکھا تھا۔

عدیلہ کے مطابق وہ اور ان کی بہن ایک ہی گھر میں بیاہی گئی تھیں۔ ان کے شوہر لاپتہ ہیں اور بڑی بہن کے شوہر جنید زاہدی اپنے چھوٹے بھائی کی تلاش میں مارے گئے۔

’اب ہم دونوں بہنیں اپنے گیارہ بچوں کے ساتھ اپنے والد کے گھر پر رہ رہی ہیں۔ کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا کہ ہم کتنے کرب میں زندگی گزار رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں