افغان وفد آیا، نہ مذاکرات ہوئے: طالبان

تصویر کے کاپی رائٹ df

افغان طالبان نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے کہ ان کے افغان حکام سے پاکستان میں مذاکرات ہوئے ہیں۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اطلاعات افغان پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ قطر میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

قاری یوسف احمدی نے افغانستان سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افغان وفد نہ کوئٹہ آیا ہے اور نہ ہی طالبان نے وہاں کسی سے مذاکرات کیے ہیں۔

واضح رہے کہ افغان حکام نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ قندھار کی امن کمیٹی کے ارکان نے کوئٹہ میں درمیانے سطح کی طالبان قیادت سے ملاقات کی ہے۔

طالبان کے سینئر ترجمان ذبیح اللہ کا موقف ہے کہ مسئلہ اختیارات کا ہے۔ ’کس کے پاس مذاکرات کا اختیار ہے۔ ہمارا کہنا ہے کہ افغان تنازعے کے دو فریق ہیں امریکہ اور طالبان، اس لیے ہم ایسے لوگوں سے مذاکرات کرکے اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے جن کے پاس اختیارات نہیں ہیں۔‘

سینئر طالبان ترجمان نے تصدیق کی کہ قطر میں امریکیوں کے ساتھ آمنے سامنے مذاکرات ہوئے ہیں۔ اس رابطے کی امریکہ نے بھی تصدیق کی تھی تاہم جگہ اور مذاکرات کے موضوع کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ ترجمان نے بتایا کہ یہ مذاکرات ابتدائی مرحلے میں ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ طالبان کا بنیادی مسئلہ قیدیوں کا امریکہ سے تبادلہ ہے اور ان (طالبان) کے پاس پانچ اہم مغربی شہری یرغمال ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی دفاتر قائم کرنا اور رہنماؤں کے نام بین الاقوامی بلیک لسٹ سے خارج کرنا بھی مطالبات کی فہرست میں شامل ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ ان معاملات پر مذاکرات ہوئے ہیں مگر ان میں ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

پاکستان میں حراست کے دوران ہلاک ہونے والے طالبان کمانڈر موٹنا عبیداللہ آخوند کے بارے میں طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مولانا آخوند کی ہلاکت کی تحقیق کا مطالبہ کیا ہے مگر انہیں اب تک کوئی جواب نہیں دیا گیا اور نہ ہی عبیداللہ آخوند کی لاش ورثا کے حوالے کی گئی ہے۔

اسی بارے میں