اسامہ کارروائی، سترہ کی نوکری گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AP

القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں نشاندہی کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ساتھ محکمہ صحت کے سترہ افراد کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔

زیر حراست ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ساتھ کام کرنے والے محکمہ صحت کے سترہ اہلکاروں کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔

ایبٹ آباد میں محکمہ صحت کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ سترہ افراد کو نوکری سے نکالا گیا ہے۔ نکالے جانے والے افراد میں سولہ لیڈی ہیلتھ ورکرز شامل ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی خدمات حاصل کی تھیں جنہوں نے پہلے ایبٹ آباد کے نسبتاً غریب علاقوں میں لوگوں کو ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگائے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی نے دو مئی کی کارروائی کے بعد امریکی انٹیلی جنس اہلکاروں کے ساتھ تعاون کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے اہلکاروں کو حفاظتی ٹیکوں کی مہم کا خیال اس مرحلے پر آیا جب وہ اسامہ بن لادن کے پیغام رساں ابو احمد الکویتی کا پیچھا کرتے کرتے ایبٹ آباد کے اس عمارت تک پہنچ چکے تھے جو بعد میں القاعدہ رہنماء کی پناہ گاہ ثابت ہوئی۔

سی آئی کے اہلکار سیٹلائیٹ اور دیگر ذرائع سے اس عمارت کی نگرانی کر رہے تھے لیکن وہ ایک دوسری ملک میں پرخطر حتمی کارروائی سے پہلے اس بات کی تصدیق کرنا چاہتے تھے کہ اسامہ بن لادن واقعی وہاں موجود ہیں۔

اس مقصد کے لیے انہیں اس عمارت میں موجود اسامہ بن لادن کے کسی بچے کے ڈی این اے کی ضرورت تھی تاکہ اسے ان کی بہن کے نمونے سے میچ کیا جا سکے جن کا سن دو ہزار دس میں بوسٹن میں انتقال ہو گیا تھا۔ اس طرح اس امر کی حتمی تصدیق ہو سکتی تھی کہ اسامہ کا خاندان وہاں موجود ہے۔

اس مہم کو چلانے کے لیے مبینہ طور پر سی آئی اے کے ایجنٹوں نے ڈاکٹر شکیل آفریدی سے رابطہ کیا جو خیبر ایجنسی میں صحت کے شعبے کے انچارج تھے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی مارچ میں یہ کہتے ہوئے ایبٹ آباد گئے کہ انہوں نے ہیپاٹائٹس بی کے خفاظتی ٹیکے مفت لگانے کے لیے فنڈ حاصل کیے ہیں۔

اسی بارے میں