حکومت اور بلوچوں کے درمیان ڈائیلاگ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں

(حکومت) مارا ماری مسئلے کا حل نہیں۔چلو آج سنجیدگی سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں واجا ۔۔۔۔

(بلوچ) کیا بات کریں ؟

(حکومت) جو بات بھی کرنا چاہو کرو کھل کے کرو۔آج مسئلہ حل کرکے اٹھیں گے !

(بلوچ) کیا سوئی گیس کی رائلٹی پر بات کریں ؟

(حکومت) چھوڑو رائلٹی کو یارا ۔یہ دیکھو موسم کتنا خوبصورت ہے !

(بلوچ) گوادر پورٹ سے ہمیں کیا فائدہ ہوا ؟ ؟

(حکومت) تمہارے مکران کی بیگم جنگی نامی کھجور دماغ کے لئے بہت فائدہ مند ہے !

(بلوچ) چمالانگ ، سیندک اور ریکوڈک میں میرا حصہ کتنا ہے ؟

(حکومت) تم نے آخری دفعہ دنبے کی سجی کب کھائی تھی واجا ؟

(بلوچ) اگر انصاف ہوتا تو آج ہمارا صوبہ سب سے خوشحال ہوتا۔

(حکومت) افتخار چوہدری بھی تو کوئٹے کا ہے۔

(بلوچ) تم فرزندِ زمین کا مطلب سمجھتے ہو ؟

(حکومت)واجا اس دفعہ کراچی جانا تو چوہدری فرزند علی کی قلفی ضرور کھانا۔کیا قلفی ہے آہا۔۔۔ !

(بلوچ) بگٹی کا قصور کیا تھا ؟

(حکومت) قصور تو بلھے شاہ کا ہے ! وہاں کی میتھی کبھی کھائی ہے ؟

(بلوچ) آبادی ہماری سب سے کم ہے لیکن بندے ہمارے سب سے زیادہ غائب ہورہے ہیں۔ایسا کب تک ہوگا ؟

(حکومت) کیا تم نے فلم ’’ دل ہی تو ہے’’ میں مکیش کا یہ گانا سنا ہے،

تم اگر مجھ کو نا چاہو تو کوئی بات نہیں

تم کسی اور کو چاہو گے تو مشکل ہوگی

(بلوچ) ہاں یہ بڑا مشہور گانا ہے مگر یہ بتاؤ کہ بندہ اگر ایک گولی سے مرسکتا ہے تو اس کے چہرے پر چوبیس گولیاں مار کر پھینکنے کی کیا ضرورت ہے۔

(حکومت)چھ گولی۔۔۔ اور آدمی تین ۔۔۔بہوت ناانصافی ہے ۔۔۔اسکی سجا ملے گی۔۔جرور ملے گی ۔۔بروبر ملے گی۔۔۔۔۔۔

(بلوچ) بس یہی مسئلہ ہے ہمارا تمہارا چونسٹھ سال سے ۔سوال گندم جواب چنا۔

(حکومت) اووووو دانہ پہ دانا نانانا، دانہ پہ دانا نانانا۔۔۔دوستی لگانا نانانا۔۔۔۔اوووووووو۔۔۔۔۔

(بلوچ) چل اڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بیگانہ !! کیا بات ہے رفیع جان کا !

اسی بارے میں