کوئٹہ: قران جلانے کے واقعہ کیخلاف مظاہرہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مظاہرے کے شرکاء نے کابل میں قران کے نسخے جلائے جانے پر شدید نعرے بازی بھی کی

بلوچستان میں مذہبی جماعتوں نے کابل میں نیٹو افواج کی جانب سے قرآن کے نسخے نذرِ آتش کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام مسلم ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ اور نیٹو ممالک سے سفارتی تعلقات ختم کریں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق جمعرات کو ہونے والے اس مظاہرے کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر امریکہ اور نیٹو افواج کے خلاف نعرے درج تھے۔

مظاہرے سے جمعیت علماءِ اسلام اور جماعت الدعوۃ کے رہنماؤں نے خطاب کیا جن میں حافظ فضل محمد بڑیچ، مولاناعبدالقادرلونی، قاری یعقوب، صبغت اللہ شاہ اور محمودالحسن قاسمی شامل تھے۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ قرآن کی بے حرمتی پر صدرآصف علی زرداری اور افغانستان کے صدرحامد کرزئی سمیت دیگر ستاون اسلامی ممالک کے سربراہان کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔

مقررین کے بقول امریکی افواج نے قرآن پاک کی بے حرمتی کر کے اپنی بربادی کو خود دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا احتجاج صرف نیٹو کی سپلائی کے مکمل خاتمے تک نہیں بلکہ امریکہ کی بربادی تک جاری رہےگا۔

مقررین نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے بلوچستان کا رُخ کرلیا توملا عمر فورس کے ذریعے منہ توڑ جواب دیاجائے گا۔

آج مسلمانوں پر حملے ہورہے ہیں، مسلمان مظلوم قوم بن چکی ہے، مسلمانوں کے اتحاد کا وقت آچکا ہے، غیرمسلم ممالک گزشتہ دس سال سے مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف عمل ہیں، کبھی نبی کی شان میں گستاخی کرنے کا حربہ استعمال کرتے ہیں توکبھی قرآن کی بے حرمتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ جو مسلمانوں کے جذبات سے کھیلے کے مترادف ہے کیونکہ قران ہی غیرمسلموں کی راہ میں رکاوٹ اور چیلنج ہے۔

انہوں نے امریکہ کی حمایت کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو بلوچستان میں داخل نہیں ہونے دیا جائےگا۔ اگرامریکہ نے بلوچستان کا رخ کیا تواسے سخت جواب دیاجائے گا۔

مقررین نے کہا کہ قرآن اللہ کی امانت ہے اور وہ خود قرآن کی حفاظت کررہا ہے اور مسلمان قران کی حفاظت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

جمعیت کے رہنماؤں نے کہا کہ نیٹو سپلائی کسی بھی صورت نہیں ہونے دی جائے گی۔

مقررین نے حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ امریکی سفیر کو فوری طور پر پاکستان سے بے دخل کیا جائے اور اس حرکت پر کسی صورت امریکہ کو معاف نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اس کے خلاف تمام اسلامی ممالک کو اکھٹے ہو کر امریکہ سے تمام سفارتی اور تجارتی روابط فوری ختم کرنے چاہیے۔

اسی بارے میں