’حسین حقانی نے سنگین دھمکیاں دیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی شہری منصور اعجاز نے متنازع میمو کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کو بتایا ہے کہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے نہ صرف اُنہیں اس میمو کو پبلک کرنے سے متعلق سنگین دھمکیاں دیں بلکہ مختلف طریقوں سے اُن پر دباؤ بھی ڈالا گیا۔

اُنہوں نے کہا کہ دس اکتوبر کو فنانشل ٹائمز میں اس میمو سے متعلق شائع ہونے والے مضمون کے بعد حسین حقانی نے بیلک بیری کے ذریعے پیغامات اور موبائل ٹیلیفون کے ذریعے کہا کہ اس میمو میں اُن کا نام نہیں آنا چاہیے۔

اُنہوں نے کہا کہ حسین حقانی مشترکہ دوستوں کے ذریعے دباؤ ڈالواتے رہے کہ اس معاملے کو منظر عام پر نہیں آنا چاہیے۔

منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد حسین حقانی کافی پریشان تھے اور اُنہوں نے ہم دونوں یعنی منصور اعجاز اور حسین حقانی کے درمیان ہونے والے بلیک بیری پیغامات کو ختم کرنے کے لیے تین مرتبہ پن کوڈ تبدیل کیے لیکن وہ ایسا نہ کرسکے کیونکہ میں نے (منصور اعجاز) نے اس کو محفوظ کرلیا تھا۔

اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے بقول عدالت نے منصور اعجاز سے کہا کہ حسین حقانی کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے بل کا مستند ریکارڈ کمیشن کو پیش کرنے کے بارے میں کہا۔

امریکی شہری کا کہنا تھا کہ بائیس اکتوبر سنہ دوہزّار گیارہ کو لندن میں پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کے ساتھ ملاقات اس خفیہ ادارے کے سربراہ کی خواہش پر ہوئی تھی۔

اُنہوں نے کہا کہ اس ملاقات میں احمد شجاع پاشا کو اس میمو کے اہم کردار حسین حقانی کا نام بتایا تھا جسے فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والے مضمون میں ایک پاکستانی سینیئرسفارت کار لکھا گیا تھا۔

منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا سے ملاقات سے پہلے حسین حقانی کا ٹیلی فون آیا تھا جس میں اُنہوں نے آئی ایس آئی کے سربراہ کا لندن آمد کا ذکر کیا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ جنرل پاشا مذکورہ اخبار کے ایڈیٹر سے ملنا چاہتے ہیں لہذا وہ اپنا اثرورسوخ استعمال کریں اور کسی طریقے سے ڈی جی آئی ایس آئی اس میمو کی کاپی حاصل نہ کرسکیں۔

منصور اعجاز نے کہا کہ اُن کا حسین حقانی سے رابطہ گُزشتہ برس اکتوبر کے آخر اور نومبر کے شروع تک رہا۔

منصور اعجاز نے اپنا بیان ریکارڈ کروالیا ہے اور یکم مارچ کو حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری اُن پر جرح کریں گے۔

اس سے پہلے سماعت میں حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری نے کمیشن کے طریقہ کار پر اعتراض اٹھائے۔

زاہد بخاری نے اعتراض اٹھایا کہ کمیشن کے سیکریٹری جو اس وقت لندن میں ہیں وہ صرف شواہد اکٹھے کرنے کے مجاز ہیں نہ کہ ان کے مستند ہونے کے۔

’کمیشن کے سیکریٹری نہ تو ہائی کورٹ کے جج ہیں اور نہ ہی کمیشن کے کہ وہ منصور اعجاز کی جانب سے فراہم کیے گئے دستاویزات کی جانچ پڑتال کریں۔‘

حسین حقانی کے وکیل نے کہا کہ کمیشن کا دائرہ کار اس میمو کے لکھے جانے، اس کے مستند ہونے اور اس کے مقصد کے بارے میں چھان بین کرنے سے متعلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن لندن کے اخبار فنانشل ٹائمز میں لکھے جانے والے مضمون اور اس کے بعد کے حالات یعنی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا اور منصور اعجاز کے درمیان ملاقات کے بارے میں نہ تو منصور اعجاز بیان دے سکتے ہیں اور نہ ہی کمیشن تحقیقات کر سکتا ہے۔

تاہم منصور اعجاز کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ متنازع میمو کے حوالے سے تمام پٹیشنز مضمون لکھے جانے کے بعد ہی سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں اس لیے اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات کو میمو سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔

اسی بارے میں