پشاور میں حملے چھ افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں آج صبح سویرے نامعلوم افراد نے اندرون شہر تھانہ کوتوالی سی ڈویژن پر خود کش حملہ کیا جس میں ایک انسپیکٹر سمیت تین اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں۔ تین خود کش حملہ آوروں کے جسم کے اعضا بھی موقع سے ملے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ حملہ فجر کی نماز کے بعد کیا گیا۔ اہلکاروں نے بتایا کہ حملہ آور تھانے میں فائرنگ کرتے ہوئے داخل ہوئے جس کے بعد انہوں نے ایک ایک کر کے اپنے آپ کو دھماکوں سے اڑا دیا۔

پشاور شہر کے پولیس افسر امتیاز الطاف نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اس حملے میں ایک ایس ایچ او منور جان سمیت تین اہلکار ہلاک اور چھ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ زحمیوں میں دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

پشاور شہر میں دو دنوں میں یہ دوسرا حملہ ہوا ہے۔ گزشتہ روز کوہاٹ روڈ پر مسافر گاڑیوں کے اڈے پر دھماکے سے تیرہ افراد ہلاک اور بتیس زخمی ہو گئے تھے۔

ابتدائی طور پر یہ کہا گیا کہ حملہ آوروں کی تعداد زیادہ ہے لیکن امتیاز الطاف کے مطابق تین حملہ آور ہی تھانے کی عمارت کے اندر دہشت گردی کی کارروائی کے لیے داخل ہوئے تھے اور تینوں کے جسم کے اعظا موقع سے مل گئے ہیں۔

تھانہ کوتوالی سی ڈویژن اندروں شہر میں ہے اور اس کے قریب لڑکیوں کا سرکاری سکول اور دیگر عمارتیں واقع ہیں۔ اس حملے کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئ اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا۔

درین اثناء پشاور کے علاقے چمکنی میں سٹرک کنارے ایک بم دھماکے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔

پولیس کے مطابق ایک نامعلوم شخص بارودی سرنگ نصب کر رہا تھا کہ اس دوران دھماکے سے زخمی ہو گیا۔

سی سی پی او امتیاز الطاف کے مطابق پشاور میں حالیہ حملے قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے ردِ عمل میں کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار چوکس تھے اس لیے شدت پسندوں کا حملہ ناکام ہوا ہے اور وہ کوئی زیادہ نقصان نہیں کر پائے۔ امتیاز الظاف نے کہا کہ اس حملے کے بعد پولیس اپنی سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے گی اور جہاں جہاں کوئی کمی محسوس ہوگی اسے بہتر کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کے اس طرح کے حملوں سے شدت پسندوں کی مایوسی ظاہر ہو رہی ہے کیونکہ فورسز کی کارروائیوں نے شدت پسندوں کی کمر توڑ دی ہے اور اب وہ آخری سانسیں لے رہے ہیں۔

یاد رہے گزشتہ روز پشاور شہر میں کوہاٹ روڈ اڈے پر بارود سے بھری گاڑی سے دھماکہ کیا گیا تھا جس میں کم سے کم تیرہ افراد ہلاک اور بتیس زخمی ہو گئے تھے۔

یہ حملے کچھ عرصے کی خاموشی کے بعد کیے گئے ہیں۔ پشاور شہر میں گزشتہ دنوں مضافات میں چیدہ چیدہ حملے ضرور ہو ئے ہیں لیکن مجموعی طور پر شہر میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری محسوس کی جا رہی تھی لیکن ان حملوں کے بعد اب ایک مرتبہ پھر شہر میں خوف پایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں