سات مارچ کو بلوچستان پر تفصیلی رپورٹ طلب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سات مارچ کو انٹیلیجنس ایجنسیز سے بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

یہ احکامات جسٹس میاں شاکراللہ جان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کے رکن بختیار ڈومکی کی اہلیہ اور بیٹی کے قتل پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران دیے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق سماعت شروع ہونے پر اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق نے کورٹ کو بتایا کہ انہوں نے پچھلح سماعت پر دیے جانے والے احکامات ملٹری انٹیلیجنس اور آئی ایس آئی کے متعلقہ افراد کو دے دیے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انٹیلیجنس ایجنسیز نے رپورٹ داخل کرنے کے لیے مہلت مانگی ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو مزید بتایا کہ خفیہ ایجنسیز نے درخواست کی ہے کہ رپورٹ کی حساس نوعیت کے پیشِ نظر سماعت چیمبر میں کی جائے اور پنچ مارچ تک کی مہلت دی جائے۔

عدالت نے کہا کہ رپورٹ موصول ہونے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ اس کی سماعت چیمبر میں کی جائے یا نہیں۔

تین رکنی بینچ نے سندھ کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی ڈومکی قتل کی تحقیاتی رپورٹ رد کردیا۔

حکومتِ سندھ کی جان سے پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملہ آور دو گاڑیوں میں سوار تھے۔

جسٹس میاں شاکراللہ جان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے پولیس کو حکم دیا تھا کہ وہ آنکھیں کھلی رکھ کر تحقیقیات کریں لیکن رپورٹ سے لگتا ہے کہ ایسا نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں