سکھر جیل تصادم میں ایک قیدی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سکھر جیل میں بوڑھوں اور نوجوانوں قیدیوں کو الگ الگ بیرکس میں رکھا گیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر سکھر کی سینٹرل جیل میں قیدیوں کے تصادم میں ایک قیدی ہلاک اور سات زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ واقعہ جمعہ کی صبح سویرے پیش آیا ہے۔ صوبائی وزیر جیل خانہ جات ایاز سومرو نے بتایا کہ سکھر جیل میں بوڑھوں اور نوجوانوں قیدیوں کو الگ الگ بیرکس میں رکھا گیا ہے۔

ان کے مطابق بڑی عمر قیدیوں کی بیرک میں گزشتہ روز ایک قیدی محمد ہاشم سے نوجوانوں نے ہنسی مذاق کیا، جس کا اس نے برا مانا تھا۔

رات کو جب تمام قیدی سوگئے تو صبح سویر محمد ہاشم نے گیس سلینڈر اٹھا کر نوجوان قیدیوں پر حملہ کردیا، نتیجے میں سات قیدی زخمی ہوگئے جن میں سے بعد میں دھنی بخش نامی قیدی زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوگیا۔

صوبائی وزیر ایاز سومرو نے بتایا کہ جیل میں قیدیوں کو کھانا اور چائے فراہم کی جاتی ہے مگر بعض کو بیرک کے اندر کھانا اور چائے بنانے کی اجازت ہے، اس لیے گیس سلینڈر فراہم کیا گیا تھا، جو رات کو بیرک سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔

فرائض میں غفلت برتنے پر انچارج جیلر سمیت دو اہلکاروں کو معطل کردیا گیا اور محکمہ جاتی تحقیقات کی جارہی ہے۔

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم نے بھی اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سکھر کو دو روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

صوبائی وزیر ایاز سومرو کا کہنا ہے کہ ’موجودہ حکومت نے قیدیوں کی فلاح بہبود اور سہولیات پر کافی توجہ دی ہے، یہ قیدی ہر وقت پریشان رہتے ہیں اس لیے ہر بیرک میں ٹیلیویژن اور ریڈیو فراہم کیا گیا ہے اور اب انہیں ٹیلیفون پر اہل خانہ سے رابطہ کی بھی اجازت دی گئی ہے۔‘

اسی بارے میں