’افغان طالبان امن کیلیے مصالحتی عمل میں شریک ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے افغانستان میں اتحادی فوجوں کے خلاف برسرپیکار طالبان اور حزب اسلامی سمیت دیگر گروہوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قومی مصالحت اور امن کے لیے افغانستان کے اندرونی عمل میں شرکت کریں۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان کی قیادت کی جانب سے افغانستان میں لڑنے والے شدت پسندوں کے لیے اس طرح کی اپیل جاری کی گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے پاکستان کے تین روزہ دورہ کے واپسی کے بعد افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے منگل کو پاکستان کے وزیر اعظم گیلانی کو ٹیلیفون کیا تھا۔ جس کے بعد وزیر اعظم گیلانی کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ افغان صدر کرزئی نے قیام امن کے عمل میں پاکستان کی اہمیت پر زور دیا اور پاکستان سے مصالحتی عمل میں مدد کرنے کی اپیل دہرائی۔

وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں یوسف رضا گیلانی نے کہا ’افغانستان کی تاریخ میں نیا باب شروع کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام اور خوشحالی کے لیے ہمارے مقدس مذہب کی صحیح روح اور افغانوں کی شاندار روایت کے مطابق افغان عوام کی توانائی کو یکجا کیا جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’میں طالبان قیادت اور حزب اسلامی سمیت تمام گروہوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ قومی مصالحت اور امن کی خاطر بین الافغانی عمل میں شرکت کریں۔ یہ ہماری مخلصانہ امید ہے کہ طالبان قیادت، حزب اسلامی اور افغانستان کے دیگر تمام سیاسی رہنما میری اپیل کا مثبت جواب دیں گے۔ وہ افغانستان میں قومی مصالحت اور امن کی خاطر بین الافغانی عمل کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے براہ راست مذاکرات میں شمولیت پر متفق ہوں گے۔‘

وزیر اعظم کے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اپنے اہم بیان میں پاکستان سے افغانستان میں قیام امن کے عمل کی حمایت کی اپیل کی تھی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ایک اہم بیان ہے کہ اور پاکستان کا فرض ہے کہ وہ اس اپیل کا مثبت جواب تھے۔

بیان میں انہوں نے کہا ’پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور ہم یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ قومی مصالحت کی بیناد پر جس میں بلاتفریق افغان عوام شامل ہوں وسیع البنیاد بین الافغانی حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اصلی، حقیقی اور قابل اعتبار افغان عمل کی حمایت کرے گا اور وہ اس کی کامیابی کے لیے وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہے جو اس کے بس میں ہو گا۔ ’میں اقوام عالم سے بھی اپیل کرنا چاہوں گا کہ وہ افغانستان میں امن اور قومی مصالحت کی حمایت کریں۔‘

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے ’مجھے خوشی ہے کہ حالیہ برسوں میں افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات میں ہر سطح پر اہم مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔‘

اسی بارے میں