’اگر میں مارا جاؤں تو‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں لاپتہ لوگوں کی تعداد میں گزشتہ سالوں میں اضافہ ہوا ہے

’اب میں اپنا سر بچا کر بھیس بدل کر رپورٹنگ کر رہا ہوں اور کرتا رہوں گا۔ برائے مہربانی میرا یہ میسیج ڈیلیٹ مت کیجیے گا اور ریکارڈ پر رکھنا اگر میں مارا جاؤں تو۔‘ یہ الفاظ ہیں اس اخباری اور ٹی وی رپورٹر کے جس نے ایک گمشدہ شخص کے متعلق رپوٹنگ کی اور اب وہ بھاگتی ریل کے پیچھے ہے۔

گزشتہ منگل کو پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر میرپور خاص کے قریب میرپور خاص - عمر کوٹ روڈ پر ایک شخص شدید زخمی حالت میں بے ہوش ملا تھا۔ اس شخص کے دونوں جبڑے ٹوٹے ہوئے تھے جبکہ ایک جبڑے پر پلاسٹر بھی چڑھا ہوا تھا۔ اس شخص کا نام بشیر آریسر ہے۔

بشیر آریسر ان گمشدہ سندھی قوم پرستوں میں سے ایک ہے جن کی آزادی کے لیے ان کے اہلِ خانہ یا لواحقین سپریم کورٹ کے سامنے ان کی رہائي کی لیے احتجاجی کیمپ لگاکر مظاہرے کر رہے تھے۔ لیکن جس وقت بشیر آریسر کے گھر والے اسلام آباد میں مظاہرے کر رہے تھے انہیں منگل کی رات بتایا گیا کہ کئي ماہ قبل مبینہ طور پر انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ہاتھوں گرفتار ہوکر لاپتہ ہونے والا بشیر آریسر انتہائي بری اور زخمی حالت میں پایا گیا ہے۔

بشیر آریسر جس شام ہاتھ آیا اسی رات اس کے تشدد شدہ زخمی جسم کے ساتھ برآمد گی کی خبریں اور فوٹیج اور فوٹوز سندھی ٹیلی ویژن نیوز نیٹ ورک کے ٹی این اور اخبار ’کاوش‘ پر نشر اور شائع ہوئے۔

لیکن کاوش اور کے ٹی این کے جس نمائندے نے یہ خبریں اور فوٹیج دیے اسکے خلاف مبینہ طور پر بقول اسکے ایجنیسوں نے کیا سلوک کیا ہوا وہ کاوش اور کے ٹی این کے اس نمائندے شاہد خاصخیلی کی اپنی زبانی سنیے جو اس نے مجھے ایک ای میل پیغام میں لکھا ہے۔ صحافی شاہد خاصخیلی نے لکھا ہے اگر وہ مارا جائے تو اسکا یہ میسج ریکارڈ پر رہے۔

شاہد خاصحیلی مجھے اپنے انٹرنیٹ پیغام میں لکھتے ہیں (جو میں جوں کے توں یہاں پیش کر رہا ہوں) :

’میں شاہد خاصخیلی، رپورٹر کے ٹی این نیوز اینڈ کاوش میرپور خاص۔ آج سے چار روز قبل مسنگ پرسن ایک شخص بشیر آریسر میرپور خاص کے نزدیک عمرکوٹ-میرپور خاص روڈ کے قریب سے ملا تھا۔ اسکی خبر کے ٹی این نیوز سے بریک ہوئي تھی۔ پھر میں رات گۓ میرپور خاص سے نکل کر بدین کے ایک گاؤں جا کر اسکی فوٹیج لیکر آیا۔ وہ کے ٹی این پر نشر ہوئی اور کاوش میں اسکی خبر شائع ہوئی۔ مگر صبح کو میرے پیچھے ایجنیسوں والے لگ گئے۔ وہ میرے آفس میں آئے اور بعد میں زبردستی مجھے آئي ایس آئی کے مرپور خاص میں واقع آفس میں طلب کیا گیا اور ڈرایا دھمکایا گیا کہ میں دہشتگروں کی حمایت کر رہا ہوں۔ مطلب یہ کہ مجھ پر یہ الزام صرف مسنگ پرسن کی نیوز چلانے، اسکے ٹوٹے ہوئے چار دانت دکھانے، اسکے منہ کے دونوں مسوڑوں کے نیچے لگي ہوئی لوہے کی پتریاں دکھانے اور اسکے کٹے ہوئے گلے کو دکھانے کی وجہ سے لگ رہا ہے۔ کیا یہ دہشتگردی ہے؟‘

شاہد اپنے پیغام میں لکھتے ہیں ’میں نہ قومپرست ہوں، نہ انتہا پسند۔ میں انسانیت میں یقین رکھنے والا آدمی ہوں۔ لیکن جب سے میں نے میرپور خاص جیسے ’ان سین‘ ایریا میں آکر کام کیا ہے تو وڈیرے، ایجنسیوں والوں اور تمام بیوروکریسی کو انگارے لگ گئے ہیں۔ میں اپنی تعریف نہیں کر رہا مگر کہہ رہا ہوں کہ سچ میں یہ ایک ’ان سین‘ ایریا ہے جہاں ظلم بھی چھپائے جاتے ہیں۔ جہاں خوبصورتی پر بھی پردے ڈالے جاتے ہیں۔‘

آخر میں کاوش کے رپورٹر شاہد خاصخیلی لکھتے ہیں، ’اب میں اپنا سر بچا کر بھیس بدل کر رپوٹنگ کر رہا ہوں، ا ور کرتا رہوں گا۔ برائے مہربانی میرا یہ میسیج ڈیلیٹ مت کیجیے گا اور ریکارڈ پر رکھنا اگر میں مارا جاؤں تو۔‘

پاکستان جیسا ملک، جو صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے ) کے مطابق دنیا میں صحافیوں کیلیے خطرناک ممالک میں سرفہرست دس ممالک میں شمار ہوتا ہے اور جہاں حیات اللہ سے لیکر شہزاد سلیم جیسے کئي صحافی مارے گۓ ہوں وہاں سندھ کے چھوٹے سے شہر کے صحافی کے پیغام کی یہ سطریں مجھے سندھی شاعر آکاش انصاری کی اس نظم کی یاد دلاتی ہیں:

’اے ماں اے ماں

اگر میں بھی

رات کے رہزنوں کے ہاتھوں

مارا جاؤں

اپنے ساتھیوں کی طرح

ماں تو رونا نہیں

ماں تو رونا نہیں‘

اسی بارے میں