اسامہ بن لادن کا مکان مکمل طور پر منہدم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں واقع القاعدہ کے رہنماء اُسامہ بن لادن کےگھر کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا ہے۔

اس آپریشن میں صوبۂ خیبر پختون خوا کے شہر ایبٹ آباد میں مقامی انتظامیہ، کنٹونمنٹ بورڈ کی بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔

گھر کے احاطےسے مشینری نکال لی گئی ہے جبکہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی وہاں ہٹ گئے ہیں۔

گرائی گئی عمارت کا ملبہ تاحال وہیں موجود ہے جسہ اٹھانے کا کام تاحال شروی نہیں۔ احاطے میں موجود سکیورٹی گارڈ کی رہائیش گاہ کو منہدم نہیں کیا ہے۔

گرائے گئے مکان کے احاطے کو مقامی انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا ہے جہاں اب صرف پولیس اہلکار موجود ہیں۔

گُزشتہ برس دو مئی کو امریکی سیکورٹی فورسز کی جانب سے ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کے خلاف کیے گئے آپریشن میں القاعدہ کے رہنماء ہلاک ہو گئے تھے اور اُس وقت کے بعد سے اس عمارت کا کنٹرول پاکستان کی سیکورٹی فورسز کے پاس تھا۔

اسامہ بن لادن کے زیر استعمال مکان کی مسماری کے عمل کی کوریج کےذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی ایک بڑی تعداد ایبٹ آباد میں موجود ہے لیکن کسی بھی نمائندے کو نزدیک نہیں جانےدیا جا رہا ہے۔

ایبٹ آباد کی پولیس کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح فوج کے حکام کی جانب سے مقامی پولیس اور انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ اُسامہ بن لادن کی رہائش گاہ کو مسمار کیا جائے گا۔

اُسامہ بن لادن کی رہائش گاہ بلال ٹاؤن میں واقع ہے جو کہ کنٹونمنٹ کا علاقہ ہے۔

ایبٹ آباد میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مکان کو مسمار کرنے کا عمل سنیچر کی رات شروع ہوا تھا۔

مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ چونکہ اس کے گھر کے مالک محمد ارشد دو مئی کے آپریشن میں ہلاک ہوگئے تھے اور اب اس جائیداد کا کوئی دعویدار نہیں ہے لہذا اس اراضی پر لڑکیوں کا سکول تعمیر کر دیا جائے۔ انہوں نے یہ مطالبہ اس لیے کیا کیونکہ بقول ان کے علاقے میں قریب کہیں لڑکیوں کا سکول موجود نہیں ہے۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کو شروع کرنے سے پہلے اُسامہ بن لادن کے گھر اور قریبی علاقوں میں جانے والے تمام راستوں کو بند کردیا گیا تھا اور صرف اُس علاقے میں رہنے والے افراد کو ہی جانے کی اجازت دی گئی۔

پولیس اہلکار کے بقول مقامی وقت یعنی سورج غروب ہونے کے بعد مکان کو مسمار کرنا شروع کیا گیا۔ اندھیرا ہونے کی وجہ سے سرچ لائٹس کا بھی استعمال کیا گیا۔

اس کارروائی کے دوران مقامی پولیس کو اُسامہ بن لادن کی رہائش گاہ کے قریب تعینات نہیں کیا گیا بلکہ مانسہرہ، چارسدہ اور پشاور سےپولیس اہلکاروں کو طلب کیا گیا تھا اور اُنہیں القاعدہ کے رہنماء کے گھر کے اردگرد تعینات کیا گیا۔

پولیس اہلکار کے بقول دوسرا سیکورٹی کا حصار فوج اور سویلین خفیہ اداروں کےاہلکاروں کا تھا جس کے بعد سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے تھے۔

اس واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندے نے بھی ایبٹ آباد کا رخ کیا لیکن رات گئے تک اُن میں سے اکثریت کو پاکستان ملٹری اکیڈمی کے باہر ہی روک لیا گیا۔

یاد رہے کہ گُزشتہ برس دو مئی کے آپریشن کے بعد کسی بھی عام شہری کو اُسامہ بن لادن کے گھر کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی اور صرف اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم ہونے والے کمیشن کے ارکان نے اس عمارت کا دورہ کیا تھا۔

اسی بارے میں