بلوچستان اے پی سی پر حکومت پریشان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption برہمداغ بگٹی نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ وہ حکومت سے بلوچستان کی آزادی کے علاوہ کسی نکتے پر بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے حکومت کی جانب سے کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان تو کر دیاگیا ہے لیکن بیشتر بلوچ قوم پرست جماعتوں اور مسلم لیگ (ن) سمیت بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے ابتدائی فیصلے کے بعد حکومت بظاہر پریشان ہے۔

بلوچستان میں مزاحمتی مسلح گروہوں سے جڑے دو جلا وطن رہنماؤں برہمداغ بگٹی اور حیربیار مری نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ وہ حکومت سے بلوچستان کی آزادی کے علاوہ کسی نکتے پر بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے حکومت کی نیت پر شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیا ہے۔

جبکہ ایک اور جلاوطن رہنماء سردار اختر مینگل جو پہلے پاکستان میں رہ کر وسیع تر اختیارات کی بات کرتے تھے، وہ بھی کم و بیش براہمداغ بگٹی اور حیربیار مری کے ہم خیال نظر آتے ہیں اور انہوں نے بھی حکومتی کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔

پاکستان میں رہ کر بلوچستان کے حقِ حقوق کی بات کرنے والی ایک اور جماعت نیشنل پارٹی نے، جو پارلیمان کا حصہ ہوتے ہوئے بھی حکومتی کل جماعتی کانفرنس میں شرکت سے گریزاں ہے، شرکت کے لیے پیشگی شرائط رکھے ہیں۔

نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹر اسحٰق بلوچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’حکومت بلوچستان کے لیے زبانی کلامی باتیں کر رہی ہے اور بلوچ رہنماؤں کو اکٹھا کرکے امریکی کانگریس میں آزاد بلوچستان کے لیے پیش ہونے والی قرارداد کی مذمت کے لیے کل جماعتی کانفرنس کے پلیٹ فارم کو استعمال کرنا چاہتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اصل حکمرانی سیکورٹی اسٹیبلشمینٹ کی ہے اور سیاسی حکومت کا عمل دخل ہے اور نہ ہی انہیں کوئی اختیار ہے۔ البتہ انہوں نے یہ ضرور کہا ’ہمیں تھوڑی بہت امید صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ہے اور اگر وہ ایسے اقدامات کریں کہ جس سے مذاکرات کے قابلِ بھروسہ ہونے کا امکان پیدا ہو تو پھر شاید صورتحال بن سکتی ہے۔ لیکن تانگہ پارٹیوں پر مشتمل کل جماعتی کانفرنس سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہوگا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ڈاکٹر اسحٰق بلوچ کہتے ہیں کہ حکومت اگر بلوچستان کا معاملہ حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو لاپتہ بلوچ سیاسی کارکنوں کو فوری طور پر رہا کرے، فوج کو بیرکوں میں بھیجے، سیکورٹی فورسز کی سرگرمیاں محدود کرے، نواب اکبر بگٹی اور تربت میں قتل ہونے والے غلام محمد بلوچ، لالہ منیر اور دیگر رہنماؤں کے قتل کے لیے جو تحقیقاتی کمیشن بنے ہیں ان کی رپورٹ سامنے لائے اور ان پر عمل کرے تو پھر شاید کوئی بات بن سکتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف ہوں یا طلال بگٹی، جماعت اسلامی ہو یا جمیعت علماء اسلام (ف) اکثر سیاسی، مذہبی اور قومپرست رہنماؤں کا مؤقف بھی نیشنل پارٹی کے مؤقف جیسا ہی ہے۔

بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بلوچستان کی صورتحال ’نو ریٹرن‘ کی طرف بڑھ رہی ہے اور اگر حکومت عالمی اور مقامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی اپیلوں پر کان دھرتی تو شاید یہ نوبت نہ آتی اور امریکی کانگریس میں بھی بلوچستان کے معاملے کی گونج سنائی نہ دیتی۔

ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ حکومت ہو یا اپوزیشن کی جماعتیں انہوں نے امریکی کانگریس میں بلوچستان پر قرارداد پیش ہونے کی تو سب نے مل کر مذمت کی اور کہا کہ بلوچستان پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے لیکن وہ بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کے لیے متحد ہونے کو تیار نہیں۔

پیپلز پارٹی کے ایک سرکردہ رہنماء نے نام ظاہر نہ کرنےکی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو بلوچستان کی خراب صورتحال کا ادارک تھا اور یہی وجہ تھی کی صدر آصف علی زرداری نے بلوچوں سے معافی مانگی اور آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج بھی دیا۔ لیکن ان کے بقول بلوچستان میں سیکورٹی اسٹیبلشمینٹ ان اقدامات سے خوش نہیں تھی۔

’میں آپ کو بتاؤں ایک تو اسٹیبلشمینٹ خوش نہیں تھی، سوات آپریشن سے متاثر ہونے والے لاکھوں لوگوں کی بحالی، اوپر سے دو سال مسلسل سیلاب آئے جس سے ڈیڑھ کروڑ لوگ بے گھر ہوئے اور ان کی بحالی کا مسئلہ تو دوسری طرف ججوں، جرنیلوں اور جرنلسٹوں نے ہمیں سانس لینے نہیں دیا اور ہر ماہ خواہ مخواہ ایک نیا بحران پیدا کیا۔ ہمیں کام کہاں کرنے دیا گیا؟‘

انہوں نے مزید کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ اقتدار اور اختیار کی مالک قوتیں اگر ہوش کے ناخن لیں اور بلوچوں کے مطالبات مان لیں تو بات بن سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بلوچستان اور پاکستان میں فاصلے بڑھ رہے ہیں اور خدا نہ کرے کہ کل ہم بنگلہ دیش کی طرح بلوچستان کا اعلان سنیں۔ اگر ایسا ہوا تو اس کی ذمہ داری سیاستدانوں پر نہیں ہوگی۔‘

اسی بارے میں