’کورٹ مارشل کی کارروائی غیر قانونی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ none

پاکستانی فوج میں حکومت کے خلاف بغاوت پھیلانے اور فوج کے صدر دفاتر پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں زیرِ حراست بریگیڈئیر علی خان کے اہل خانہ نے عدالت عالیہ سے ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دے کر اسے روکنے کی درخواست کی ہے۔

راولپنڈی میں قائم لاہور ہائیکورٹ کے بینچ کے سامنے بریگیڈئیر علی خان کے بھائی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فوج سے ریٹائر ہو جانے، راولپنڈی میں تعینات ہونے اور دل کے عارضے کا شکار ہونے کی وجہ سے سیالکوٹ میں بریگیڈئیر علی کے خلاف ہونے والی کورٹ مارشل کی کارروائی غیر قانونی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جج اعجاز احمد نے اس درخواست پر فوج سے مؤقف طلب کر لیا ہے۔

انعام الحریم ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی گئی اس درخواست میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ بریگیڈئیر علی جولائی میں فوج سے ریٹائر ہونے والے تھے اور اس مقصد کے لیے ان کو تحریری احکامات بھی دے دیے گئے تھے۔ لہذا ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

درخواست کے مطابق بریگیڈئیر علی کو راولپنڈی سے حراست میں لیا گیا اور ان کے خلاف الزام اور شہادتوں کا بھی سیالکوٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے، ایسے میں کورٹ مارشل کی کارروائی وہاں نہیں ہو سکتی۔

اس رٹ پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بریگیڈئیر علی خان پر دورانِ حراست دل کا دورہ پڑا لیکن فوجی حکام نے ان کی میڈیکل رپورٹس ان کے اہلِ خانہ کو دیکھنے نہیں دیں۔ ایسے میں ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی جان لیوا ہو سکتی ہے لہذا اس کے آغاز سے قبل ان کا مکمل طبی معائنے کا بندوبست کیا جائے۔

اس درخواست کے ساتھ بریگیڈئیر علی کے وکیل اسد منظور بٹ کا ایک تحریری بیان حلفی بھی منسلک کیا گیا ہے جس میں وکیل دفاع نے کہا ہے کہ فوجی حکام نے انہیں اپنے مؤکل سے ملنے کی اجازت نہیں دی۔

واضح رہے کہ بریگیڈیئر علی خان کو چھ مئی کو جی ایچ کیو (بری فوج کے صدر دفاتر) میں واقع ان کے دفتر سے حراست میں لیا گیا تھا۔ اس دوران ان کے خلاف حزب التحریر کے ساتھ روابط رکھنے کے الزام میں تحقیقات ہورہی تھیں۔

بریگیڈیئر علی خان پر فوج کی جانب سے کورٹ مارشل کی کارروائی کے لیے عائد کی جانے والی فردِ جرم کے مطابق سول حکومت کے خلاف بغاوت کے ساتھ ساتھ بریگیڈیئر علی خان نے بعض فوجی افسروں اور سویلین افراد کے ساتھ مل کر فوج کے صدر دفتر جی ایچ کیو پر حملہ کر کے وہاں لوگوں کو قتل کرنے کی سازش تیار کی تھی اور ان مقاصد کے حصول کے لیے انہوں نے فوج کی ٹرِپل ون بریگیڈ گروپ کے سربراہ اور بعض دیگر اہم افسروں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔

بریگیڈئیر علی خان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور انہوں نے ملاقات کے لیے آنے والے اپنے اہل خانہ کو بتایا ہے کہ انہیں اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کی ذمہ داری کے تعین کا مطالبہ کرنے اور اعلیٰ فوجی قیادت سے اس بارے میں تلخ سوالات کرنے پر انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

بریگیڈئیر علی کے بھائی ملک بشیر اعلیٰ فوجی قیادت پر اپنے بھائی کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی پر اثر انداز ہونے کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اعلیٰ فوجی حکام سے درخواست ہے کہ وہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہ کریں اور بریگیڈئیر علی کو منصفانہ کورٹ مارشل کا سامنا کرنے کا موقع دیا جائے۔

اسی بارے میں