کوہستان میں مسافر بس پر حملہ، اٹھارہ افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع کوہستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک مسافر بس پر ہونے والے فائرنگ کے نتیجے میں کم سے کم اٹھارہ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کوہستان کے صدر مقام داسو کے دور دراز پہاڑی علاقے ہربن نالہ میں شاہراہ قراقرم پر پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک مسافر بس روالپنڈی سے شمالی علاقے گلگت جارہی تھی کہ ہربن نالہ کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی روک کر مسافروں کو نیچے اتارا اور ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مسافر بس گلگت سے راولپنڈی جارہی تھی۔

شاید اب حکومت کو خیال آ جائے : تجزیہ نگار عائشہ صدیقہ

حکومت بے بس نظر آتی ہے: مقامی صحافی

گلگلت بلتستان کے وزیرِ اعلی سید مہدی شاہ نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں کسی بھی ممکنہ کشیدگی کے پیشِ نطر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ گلگت شہر میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کی گئی ہے اور تمام سکول بھی تین دن کے لیے بند کر دیئے گئے ہیں۔

کوہستان سے ممبر صوبائی اسمبلی ستار خان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے واقعہ فرقہ واریت کا نیتجہ قرار دیا ہے۔ مارے جانے والے تمام افراد کا تعلق اہلِ تشعیہ سے ہے۔

ایک ماہ قبل شمالی علاقے دیا میر میں سنی فرقے کے دو افراد مارے گئے تھے جس پر احتجاج بھی ہوا تھا۔ ستار خان کے مطابق یہ حملے اُسی واقعے کا ردِ عمل ہوسکتا ہے۔

کمشنر ہزارہ ڈویژن خالد خان عمر زئی نے بی بی سی سے کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ کوہستان اور چلاس سے جائے وقوعہ کی طرف امدادی ٹیمیں راوانہ کردی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دور افتادہ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک واقعہ کی نوعیت معلوم نہیں ہوسکی۔

انہوں نے کہا کہ جس جگہ پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے وہ علاقہ ہزارہ ڈویژن کا حصہ ہے لیکن شمالی علاقہ جات کو زیادہ قریب پڑتا ہے۔

اسی بارے میں