پاکستان میں پولیو وائرس پھیلنے کا خدشہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

دنیا میں پولیو کے خاتمے کی مہم کی مانیٹرنگ کرنے والے بورڈ نے پاکستان میں پولیو کے خلاف قطرے پلانےکی مہم کو کمزور قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے چند ماہ میں پولیو وائرس پھیل سکتا ہے۔

عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کی نگرانی کرنے والے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان میں اپریل کے بعد بھی پولیو وائرس قابل ذکر حد تک پھیلتا رہا تو اس پر رواں سال قابو پانا ناممکن ہوجائے گا۔

بورڈ نے کہا ہے کہ رواں سال کے باقی دس ماہ انتہائی اہم ہیں اور اس میں پولیو کا ایک ایک قطرہ اور ہر ایک شخص جو اس پروگرام سے منسلک ہے ان کی کوششیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

بورڈ نے پاکستان سمیت متعلقہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ پولیو مہم کو ہر علاقے تک پھیلانے کو یقینی بنائیں۔

ادھر پاکستان سے پولیو کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کی صحت کی عالمی تنظیم ’ڈبلیو ایچ او‘ کے سینیئر کوآرڈینیٹر مسٹر ایلیس دُورے نے بتایا ہے کہ رواں سال تاحال پاکستان میں پولیو کے گیارہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مصیبت زدہ علاقوں فاٹا، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پولیوں کے کیسز زیادہ ہیں۔

ان کے بقول متعلقہ علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور پرتشدد واقعات کی وجہ سے پولیو کے خاتمے کے قطرے پلانے کا کام نہیں ہو پا رہا ہے یا پھر بہت ہی محدود پیمانے پر ہو رہا ہے۔

گزشتہ برس پاکستان میں ایک سو اٹھانوے کیسز رپورٹ ہوئے اور اس سال دو ماہ میں گیارہ کیسز سامنے آئے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ پاکستان میں اس سال اس تعداد میں مزید اضافہ ہو۔

پاکستان میں پہلی بار مہلک مرض پولیو کے خاتمے کی کوششیں سنہ انیس سو چورانوے میں شروع ہوئیں جب ملک میں پچیس ہزار کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

’ڈبلیو ایچ او‘ کے حکام کے مطابق سنہ دو ہزار پانچ تک پاکستان میں بتدریج پولیوں کیسز میں کمی آئی لیکن اس کے بعد ہر سال اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دوہزار نو سے دو ہزار گیارہ تین سال ایسے ہیں جہاں ترتیب وار ایک سو چودہ، ایک سو اکتالیس اور ایک سو اٹھانوے کیسز رپورٹ ہوئے۔

حکام کے مطابق گزشتہ برس سب سے زیادہ کیسز بلوچستان میں سامنے آئے جن کی تعداد بہتر تھی اور اس میں سے چھتیس کیسز صرف ضلع پشین میں تھے۔

ان کے بقول رواں سال جو گیارہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ان میں چھ فاٹا اور صوبہ خیبر پختونخوا جبکہ پانچ بلوچستان میں سامنے آئے ہیں۔

حکام کے مطابق پاکستان میں معلومات کی کمی، مذہبی طور پر اس کی مخالفت کرنے، عام لوگوں کی عدم دلچسپی، بدعنوانی، لیڈی ہیلتھ ورکرز کی ہڑتالیں کرنا اور ضلعی انتظامی افسران کی عدم توجہ ایسے معاملات ہیں جو پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں رکاوٹ ہیں۔

پولیو کی روک تھام کی مہم کی نگران اور وزیراعظم کی مشیر شہناز وزیر علی کا کہنا ہے کہ امن و امان ایک بڑی وجہ ہے کیونکہ قطرے پلانے والی ٹیمیں بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں تیس سے پینتیس فیصد بچوں کو قطرے نہیں پلائے جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر اب ضلعی رابطہ افسر، ڈپٹی کمشنر کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ صحت، تعلیم، ریونیو، پولیس اور دیگر محکموں کے عملے کی مدد سے ہر علاقے میں پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کو یقینی بنائیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال مئی میں جب امریکہ نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا تھا تو یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ اس کی مخبری مبینہ جعلی پولیو مہم کے دوران ڈاکٹر شکیل آفریدی نے کی تھی۔

اس کے علاوہ دور افتادہ علاقوں میں بعض مولوی حضرات نے یہ افواہ بھی عام کی کہ پولیو قطرے پینے سے بچے پیدا کرنےکی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

مخبری کے لیے پولیو کی جعلی مہم اور دیگر افواہوں کی وجہ سے بھی پاکستان میں اس مہلک مرض کے خلاف مؤثر کوششیں نہیں ہو پا رہیں۔

اسی بارے میں