’منفی تجارتی فہرست کے خاتمے کا اعلان‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دو طرفہ تجارت کے عالمی معاہدوں پر عمل کریں گے اور مقامی صنعتوں کے مفادات کو مقدم رکھیں گے: فردوس عاشق اعوان

پاکستان نے رواں سال کے اختتام تک بھارت کے ساتھ منفی تجارتی فہرست کو مرحلہ وار ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کے بعد بھارت سے تجارتی تعلقات معمول پر آجائیں گے۔

بدھ کو یہ بات وزیر اطلاعات فرودس عاشق اعوان نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے متعلق صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔

انہوں نے کہا کہ اکتیس دسمبر تک بارہ سو نو اشیاء منفی تجارتی فہرست میں شامل رہیں گی۔

ان کے مطابق بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات معمول پر لانا پاکستان کے مفاد میں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب منقسم کشمیر میں تجارتی تعلقات سے مسئلہ کشمیر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تو پاکستان اور بھارت کے درمیاں تجارت سے کیسے نقصان پہنچے گا؟

انہوں نے بھارت سے تجارت پر بعض وزارتوں اور سکیورٹی اداروں کے تحفظات کے بارے میں کہا کہ جب کابینہ فیصلہ کرتی ہے تو تمام ’سٹیک ہولڈرز‘ کی مشاورت کے بعد کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دو طرفہ تجارت کے عالمی معاہدوں پر عمل کریں گے اور مقامی صنعتوں کے مفادات کو مقدم رکھیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ منقسم کشمیر میں جب سے تجارت شروع ہوئی ہے اس وقت سے اب تک چودہ سے پندرہ ارب روپے کی تجارت ہوئی ہے اور چودہ سو ٹرکوں میں سامان بھیجا یا لایا گیا ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں براہ راست تجارتی تعلقات معمول پر آنے سے جہاں اعتماد سازی پختہ ہوگی وہاں غلط فہمیاں بھی دور ہوں گی اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ البتہ یہ عمل ایسے عناصر کے لیے شدید دھچکہ ثابت ہوگا جو بھارت کو ہمیشہ ایک ’بڑے دشمن‘ کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے اپنے مفادات پورے ہو سکیں۔

وزیراطلاعات نے بتایا کہ بھارت سے تجارتی تعلقات معمول پر آنے سے تجارتی توازن قائم ہوگا اور دونوں ممالک کے نجی شعبوں کو ’اوپن مارکٹ‘ ملے گی۔

بھارت کو ’موسٹ فیورٹ نیشن‘ کا درجہ دینے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کابینہ کے فیصلوں سے اس کی اصولی منظوری ہوگئی اور جب نوٹیفکیشن جاری ہوگا تو بھارت کو یہ درجہ مل جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں سیکورٹی اسٹیبشلمینٹ اور دائیں بازو کی سوچ رکھنے والی جماعتیں بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل سے قبل تجارت کی شدید مخالف رہی ہیں اور ماضی میں سیاسی حکومتوں پر سخت دباؤ بھی رکھا ہے۔

اسی بارے میں