’جی ایچ کیو پر ایف سولہ سے حملے کا منصوبہ تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

حکومتِ پاکستان کے خلاف بغاوت پھیلانے اور فوجی صدر دفاتر پر حملے کی سازش کے الزام میں زیرِ حراست پاکستانی فوجی افسر بریگیڈیئر علی خان پر کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران ایف سولہ لڑاکا طیارے کے ذریعے جی ایچ کیو پر حملے کا منصوبہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

بریگیڈیئر علی خان کے خلاف اس الزام کی بنیاد استغاثہ کے گواہ میجر سہیل اکبر کا بیان ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ بریگیڈیئر علی اور حزب التحریر کے بعض ارکان نے انہیں بتایا تھا کہ کور کمانڈرز یا فارمیشن کمانڈرز کے اجلاس کے دوران راولپنڈی میں واقعہ جنرل ہیڈ کوارٹرز پر ایف سولہ طیارے سے حملہ کیا جائے گا۔

نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے بریگیڈیئر علی خان کے خلاف استغاثہ کے گواہ میجر سہیل اکبر نے اپنے تحریری بیان میں فوجی عدالت کو بتایا ہے کہ اس مقصد کے لیے راولپنڈی کے قریب ایک فوجی ہوائی اڈے پر تعینات ایف سولہ طیارے کے ایک پائلٹ کو ہمنوا بنا لیا گیا تھا۔

میجر اکبر کے مطابق اس ایف سولہ طیارے کے ذریعے ہی ملزمان نے پاکستان میں امریکی فوجی اڈے اور امریکی سکیورٹی کمپنی بلیک واٹر کی تنصیبات پر بھی حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

میجر سہیل اکبر نے اعتراف کیا کہ وہ سات سال سے حزب التحریر کے ارکان سے ملتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جولائی دو ہزار دس میں ہونے والی اسی طرح کی ایک ملاقات کے دوران حزب التحریر کے ارکان کے ساتھ ملاقات میں بریگیڈیئر علی خان بھی موجود تھے۔

’اس ملاقات کے دوران پہلی بار مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ حزب التحریر کے لوگ بریگیڈیئر علی کے ساتھ مل کر فوجی اور سیاسی قیادت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔‘

میجر اکبر کے مطابق اسی ملاقات کے دوران حزب التحریر کے نوجوانوں نے بریگیڈیئر علی سے پوچھا کہ ’پلان‘ کیا ہے۔ جس پر بریگیڈیئر علی نے ایک کاغذ پر دائروں کی شکل میں کچھ لکیریں کھینچیں اور کہا کہ تین سے چار سو مسلح لوگوں کی مدد سے وہ اقتدار پر قبضہ کر سکتے ہیں۔

میجر اکبر کے مطابق بریگیڈیئر علی نے کہا کہ وہ خود ان مسلح افراد کے دستے کی قیادت کریں گے۔

میجر اکبر نے کہا کہ اس ملاقات کے بعد بھی حزب التحریر کے لوگوں کے ساتھ روابط رہے جنہوں نے مجھے بتایا کہ بریگیڈئیر علی نے ایک ایف سولہ طیارے کے پائلٹ کا بندوبست کر لیا ہے۔

میجر اکبر کا مزید کہنا ہے کہ انہی روابط میں معلوم ہوا کہ بریگیڈیئر علی کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ فوج کی ٹرپل ون بریگیڈ کے سربراہ اور کچھ جنرلز بھی ہیں جو بریگیڈئیر علی کے ہمنوا ہیں۔

میجر اکبر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس منصوبے میں تشدد شامل ہونے کی وجہ سے اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا کیونکہ حزب التحریر بنیادی طور پر تشدد کو حرام قرار دیتی ہے۔

اسی بارے میں