’جبری شادی‘ پر ہندو کمیونٹی کی تشویش

پاکستانی ہندو: فائل فوٹو
Image caption سندھ میں ہندوؤں کا کہنا ہے کہ انہیں نکل مکانی کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے

پاکستان انسانی حقوق کمیشن نے سندھ کے شہر میرپور ماتھیلو کی ہندو لڑکی رنکل کماری کی مبینہ طور پر مذہب کی تبدیلی اور جبری شادی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا از خود نوٹس لیں۔

انسانی حقوق کمیشن نے اپنے ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ رنکل کو کچھ روز قبل ضلعے گھوٹکی کے شہر میرپور ماتھیلو سے اٹھایا گیا تھا، جس کو بعد میں پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی میاں مٹھو نے اپنے پاس رکھا۔

ہندو کمیونٹی کے احتجاج پر لڑکی کو پچیس فروری کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس نے والدین کے ساتھ جانے کی خواہش ظاہر، مگر عدالت نے سماعت ملتوی کردی۔ اگلی سماعت ستائیس فروری کو رکھی گئی، جہاں لڑکی کے خاندان سمیت ہندو کمیونٹی کے کسی فرد کو اندر جانے نہیں دیا گیا۔

ایچ آر سی پی کا دعویٰ ہے کہ لڑکی نے ایک بار پھر والدین کے پاس جانے کا بیان دیا مگر وہاں موجود مقامی سردار نے جج کے سامنے لڑکی کو تھپڑ رسید کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ اب وہ مسلمان ہے اور اس کے شوہر کا گھر ہی اس کا گھر ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کے مطابق ہندو کمیونٹی کا کہنا ہے کہ لڑکی کا زبردستی مذہب تبدیل کرکے اس کا نام فریال رکھا گیا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں مقامی عدالت نے فیصلہ دیا کہ لڑکی کہتی ہے کہ ’میں اپنے گھر جانا چاہتی ہوں، اب شادی کے بعد شوہر کا گھر ہی اس کا گھر ہے، اس لیے میں (جج) اسے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دیتا ہوں۔‘

ایچ آر سی پی کے مطابق جبری مذہب کی تبدیلی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے بھی ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

اس سے پہلے سندھ اسمبلی میں اقلیتی رکن اسمبلی پیتامبر سیوانی نے ایوان میں ایک قرار داد پیش کی تھی، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت جبری شادیوں کے خلاف قانون سازی کریں۔

پیتامبر شیوانی نے، جن کا تعلق بھی پیپلز پارٹی سے ہے، اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان ہندو لڑکیوں کو اغوا کیا جاتا ہے جس کے بعد ان کا مذہب تبدیل کرکے ان کی شادیاں کرائی جاتی ہیں۔ ان واقعات کے باعث ہندو کمیونٹی میں تشویش پائی جاتی ہے۔

انہوں نے میرپور ماتھیلو کی رنکل کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ہندو لڑکی اپنی رضامندی سے مسلمان ہونا چاہتی ہے تو ہندو کمیونٹی کو کوئی اعتراض نہیں ہے مگر زبردستی مذہب تبدیل کرنے کی کوششوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

پیتامبر شیوانی کا دعویٰ تھا کہ سندھ میں ہر ماہ بیس سے پچیس لڑکیوں کو مذہب چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور ایسی صورتحال پیدا کی جارہی ہے کہ ہندو کمیونٹی یہاں سے نقل مکانی کر لے۔

دوسری جانب پاکستان ہندو کونسل کے رہنماؤں نے بھی اس واقعے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کے صدر جیٹھانند کوہستانی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کا وہ از خود نوٹس لیں اور لڑکی کو والدین کے حوالے کیا جائے تاکہ ہندو کمیونٹی کا اعتماد بحال ہو۔

اسی بارے میں