’منفی پراپیگنڈا پولیو مہم کے لیے نقصاندہ‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں محکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ انسدادِ پولیو کی ویکسین کے خلاف مختلف ٹی وی شوز پر نشر کیے جانے والا منفی پراپیگنڈا اس مہم کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

یہ بات محکمہ صحت کے چند افسران نے انسداد پولیو مہم کے حوالےسے لاہور کے میو ہسپتال میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

میو ہسپتال کے میڈیکل سپریڈینڈنٹ ڈاکٹر زاہد پرویز نے کہا کہ مقامی میڈیا پر پولیو ویکسین کے بارے میں منفی پراپیگنڈے کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو قطرے پلوانے سے گریز کررہے ہیں جس سے انسداد پولیو کی مہم متاثر ہو رہی ہے۔

پاکستان میں انسداد پولیو مہم کی عہدیدار پروفیسرڈاکٹر نوشین عزیز نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی پولیو ویکسین میں کسی قسم کی کوئی خامی یا کمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آنے والی ویکسین بھی دنیا کے تمام دیگر ممالک کی طرح عالمی ادارہِ صحت اور یونیسیف سے تصدیق شدہ ہوتی ہے اور پاکستان میں بھی اس کی باقاعدہ جانچ پڑتال ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کو دنیا بھر میں پولیو سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار دیا گیا ہے۔

لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق کانفرنس میں جب یہ سوال پوچھا گیا کہ بھارت بھی اب پولیو فری ممالک میں شامل ہو گیا ہے سو پاکستان میں اس جان لیوا وائرس کا مکمل خاتمہ کیوں نہیں کیا جا سکا تو طبی ماہرین نے کہا کہ پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے حالت جنگ میں ہے اور لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین، جن میں بچے بھی شامل ہیں پاکستان آئے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق جب اتنے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوتی ہے تو اس سے مختلف قسم کے وائرس اور بیماریاں بھی پھیل جاتی ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر نوشین عزیز نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت کی ٹیمیں ہر مہینے پاکستان کے تمام شہروں کے نکاسی اور پینے کے پانی کے نمونے لے کر ان کا تجزیہ کرتی ہیں اور ہر بار ان میں پولیو کے وائرس پائے جاتے ہیں۔

پنجاب کے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں سنہ دو ہزار بارہ میں ابھی تک پولیو کے دو کیسز سامنے آئے ہیں لیکن پنجاب حکومت پر عزم ہے کہ اسی سال میں پولیو کے مرض پر قابو پا لیا جائے گا اور پاکستان بھی پولیو فری ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔

ڈاکٹر زاہد پرویز نے کہا کہ پاکستان میں صوبہ پنجاب، پولیو فری مہم میں سب سے آگے ہے اور سب سے کم کیس پنجاب میں رپورٹ ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سنہ دوہزار بارہ کی پولیو مہم کے دوران پنجاب بھر میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے۔

ڈاکٹر زاہد پرویز کا کہنا تھا کہ پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت، ڈاکٹروں اور میڈیا کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے اور اس میں عوام کی بھی ذمہداری ہے کہ وہ خود سے اس پر توجہ دیں اور میڈیا کے منفی پراپوگینڈے کو نظر انداز کرکے بروقت اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوائیں۔

اسی بارے میں