اسامہ آپریشن:’صدر اور آرمی چیف کا رابطہ نہیں ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’صدر آصف علی زرداری اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان ٹیلیفون پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی‘

پاکستانی صدر کے ترجمان اور فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ یا آئی ایس پی آر نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ گذشتہ سال دو مئی کو اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی کے دوران صدر آصف علی زرداری اور فوج کے سربراہ کے درمیان ٹیلیفون پر کوئی بات چیت ہوئی تھی۔

گذشتہ سال دو مئی کی رات کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز نے کارروائی کر کے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا تھا۔

پاکستان کے صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اپنے بیان میں کہا کہ دو مئی کو اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی کے روز پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کی فوج کے سربراہ کو ٹیلیفون کال کے بارے میں بعض میڈیا رپوٹس غلط اور بے بنیاد ہیں۔

بیان کے مطابق ذرائع ابلاغ میں یہ رپورٹس شائع ہوئی ہیں کہ دو مئی کی رات کو اسامہ کے خلاف امریکی کارروائی کے موقع پر صدر زرداری نے فوج کے سربراہ کو ٹیلیفون کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ یہ کارروائی ان کی منظوری سے ہو رہی تھی۔

اسی دوران فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ یا آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں میمو سکینڈل کے مرکزی کردار منصور اعجاز کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے مبینہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یکم اور دو مئی 2011 کی رات کو پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان ٹیلیفون پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی‘۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی خبروں کے مطابق جمعرات کو لندن میں ویڈیو لنک کے ذریعے میمو کمیشن کے سامنے پیشی کے موقع پر منصور اعجاز نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دعوٰی کیا تھا کہ گذشتہ سال دو مئی کی رات کو صدر زرداری نے پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو ٹیلیفون کیا اور ان سے کہا کہ پاکستان کے فضائی حدود میں موجود امریکی ہیلی کاپٹرز کے خلاف فوری کارروائی کے لیے اڑائے گئے ایف سولہ طیاروں کو واپس بلایا جائے۔

فوج کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے‘ فوجی قیادت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس اور ایبٹ آباد کمیشن کو پہلے ہی بریفنگ دے چکی ہے اور اس میں مزید اضافے کے لیے کچھ نہیں ہے‘۔

واضح رہے کہ پاکستان کی حکومت نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی اور بعد میں امریکی کارروائی کے دوران ان کی ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمشین تشکیل دیا ہے جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جاوید اقبال کررہے ہیں۔

اسی بارے میں