ارباب رحیم کی اسمبلی رکنیت خطرے میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’حکومت ارباب غلام رحیم کو سزا دینا چاہتی ہے‘

سندھ اسمبلی نے دبئی میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزرانے والے سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم کی چُھٹی کی درخواست مسترد کردی ہے۔

ارباب غلام رحیم رکنِ صوبائی اسمبلی کا حلف لینے کے کچھ روز کے بعد دبئی چلے گئے تھے اور اب وہیں قیام پذیر ہیں۔

مسلم لیگ ہم خیال گروپ کے رکن اسمبلی عبدالرزاق راہموں نے پیر کو اجلاس میں ارباب غلام رحیم کی چھٹی کی درخواست پیش کی اور موقف اختیار کیا کہ ان کی طبیعت ناساز ہے اور ڈاکٹروں نے انہیں سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو نے اس درخواست کی مخالفت کی اور مطالبہ کیا کہ ایوان کو یہ بتایا جائے کہ ارباب غلام رحیم کو آخر کون سے بیماری ہے جس کے باعث وہ گزشتہ چار سالوں سے نہیں آر ہے ہیں۔

رزاق راہموں نے اس پر اعتراض کیا اور کہا ہے کہ چھٹی کی وجہ درخواست میں بیان کر دی ہے اب یہ ایوان کا استحاق ہے کہ درخواست منظور کرے یا مسترد۔

اس درخواست پر ووٹنگ کرائی گئی اور ارکان کی اکثریت نے اس مسترد کردیا۔

صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو نے ارباب غلام رحیم کے ایک حالیہ انٹرویو کا حوالہ دیا اور کہا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ کے خلاف انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کیے ہیں، جو اسمبلی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ہم خیال کے رکن اسمبلی رزاق راہموں کا کہنا ہے کہ حکومت حالیہ سینیٹ کے انتخابات میں امیدوار کھڑا کرنے پر ارباب غلام رحیم کو سزا دینا چاہتی ہے۔ بقول ان کے وہ پہلے سے ہی پیپلز پارٹی کی جانب سے ایسے ردعمل کی توقع کر رہے تھے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق حکمران پیپلز پارٹی اور اتحادیوں کی کوشش تھی کہ سندھ میں سینیٹ کے امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہوں مگر مسلم لیگ ہم خیال کے حامی امیدوار کے باعث ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔

رزاق راہموں کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا مطالبہ تھا کہ ہم خیال گروپ اپنے امیدوار کو دستبردار کرے مگر ان کا مطالبہ تھا کہ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ فنکشنل کی طرح انہیں بھی ایـڈجسٹ کیا جائے مگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکے۔

سندھ اسمبلی کے قوانین کے تحت اگر کوئی رکن مسلسل چالیس روز غیر حاضر رہتا ہے تو اسپیکر اکثریت کی رائے سے اس نشست کو خالی قرار دینے کا مشورہ دے سکتا ہے۔

مسلم لیگ ہم خیال کے مطابق ارباب رحیم کو اگر رکنیت سے محروم کیا گیا تو وہ اس اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے۔

یاد رہے کہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات کی فوری بعد سندھ اسمبلی میں حلف لینے کے موقع پر سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے ساتھ ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تھا جس کے بعد سے وہ دبئی میں خود ساختہ جلاوطنی کے دن گزار رہے ہیں۔