’بریگیڈئیر علی خلافت قائم کرنا چاہتے تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption اس گفتگو کو صرف ان کا جذباتی پن سمجھ کر مسترد نہیں کیا جا سکتا تھا: میجر جنرل عامر ریاض

پاکستان میں سول حکومت کا تختہ الٹنے اور فوجی صدر دفاتر پر حملے کی سازش کے الزام میں زیرحراست فوجی افسر بریگیڈئیر علی خان پر ان کے ایک ساتھی افسر نے الزام لگایا ہے کہ وہ حزب التحریر کے فلسطینی سربراہ سے ملے تھے جبکہ پاکستانی اقتدار پر قبضہ کر کے خلافت قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

پاکستانی فوج کی ٹرپل ون بریگیڈ کے سربراہ بریگیڈئیر عامر ریاض کے مطابق بریگیڈئیر علی نے انہیں بتایا تھا کہ حزب التحریر نے پاکستان کے لیے آئین تیار کر لیا ہے اور علامتی حکومت بھی قائم کی جا چکی ہے جو کسی بھی وقت اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔

بریگیڈئیر علی خان کے خلاف تیار کردہ استغاثہ کی دستاویز میں بریگیڈئیر عامر ریاض کو استغاثہ کے گواہ کے طور پر متعارف کروایا گیا ہے۔ بریگیڈئیر عامر ریاض بریگیڈئیر علی اب ترقی پا کر میجر جنرل کے عہدے پر تعینات کیے جا چکے ہیں۔

بریگیڈئیر( اب میجر جنرل) عامر ریاض نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چند ماہ قبل بریگیڈئیر علی نے ایک ملاقات میں پاکستان کی موجودہ سیاسی اور فوجی قیادت اور نظام کے بارے میں عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ ریاستی نظام کو ختم کر کے پاکستان میں خلافت قائم کرنے کی بات کی۔

استغاثہ دستاویزات کے مطابق بریگیڈئیر علی نے مبینہ طور پر اپنے پرانے ساتھی کو بتایا کہ ان کے حزب التحریر کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور وہ اس تنظیم کے فلسطینی سربراہ کے ساتھ ملاقات کر چکے ہیں۔

’برگیڈئیر علی نے مجھے بتایا کہ حزب التحریر کے پاس حقیقی خلافت قائم کرنے کی صلاحیت موجود ہے جو پاکستان میں اچھی طرز حکمرانی (گڈ گورننس) بھی قائم کر سکتی ہے۔ انہوں نے (پاکستان کے لیے) آئین بھی تیار کر رکھا ہے اور ایک علامتی حکومت (شیڈو گورنمنٹ) بھی موجود ہے جو کسی بھی وقت پاکستان میں عنانِ حکومت سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔‘

بریگیڈئیر عامر ریاض کے مطابق بریگیڈئیر علی کا کہنا تھا کہ حزب التحریر پاکستان میں خلافت اسی صورت قائم کر سکتی ہے جب فوج اقتدار اس تنظیم کے سپرد کر دے۔

بریگیڈئیر علی سے منسوب بیان کے مطابق یہ سب اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکے گا جب تک موجودہ فوجی قیادت کو منظر سے ہٹا نہیں دیا جاتا۔

بریگیڈئیر عامر نے کہا کہ وہ اپنے اس پرانے ساتھی کو ایک جذباتی فرد کے طور پر جانتے تھے لیکن اس گفتگو کو صرف ان کا جذباتی پن سمجھ کر مسترد نہیں کیا جا سکتا تھا۔

انہوں نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ بریگیڈئیر علی نے انہیں بتایا کہ پاکستانی فضائیہ کے بعض عناصر اس منصوبے میں حزب التحریر کے ساتھ ہیں جو کسی فارمیشن یا کور کمانڈر اجلاس کے دوران ایف سولہ طیاروں سے جی ایچ کیو پر حملہ کر کے فوجی قیادت کو ختم کر دیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بریگیڈئیر علی نے ان سے کہا کہ اس کے بعد اُن (بریگیڈئیر عامر) کا کام یہ ہوگا کہ وہ اسلام آباد میں اہم عمارتوں کو اپنے قبضے میں لے لیں۔

بریگیڈئیر عامر نے کہا کہ میں نے اس تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بریگیڈئیر علی کے ساتھ تعاون سے صاف انکار کر دیا۔’اس کے بعد بریگیڈئیر علی نے دیگر افسروں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ ایسے لگتا تھا کہ وہ جلد از جلد یہ کرنا چاہتے تھے کیونکہ ان کی ریٹائرمنٹ قریب آ رہی تھی۔‘

اسی بارے میں