رنکل کماری کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رنکل کماری کے مبینہ اغواء اور جبری شادی پر ہندو کمیونٹی نے کراچی سے لیکر کشمور تک احتجاجی مظاہرے کیے

سندھ ہائی کورٹ نے ایک آئینی درخواست پر رنکل کماری عرف فریال کو بارہ مارچ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ رنکل کے والدین نے الزام عائد کیا ہے کہ رنکل کا مذہب تبدیل کرنے کے بعد اس کی جبری شادی کی گئی ہے۔

آئینی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ رنکل کماری کو عدالت میں پیش کروایا جائے اور اسے دارالامان بھیجا جائے جہاں اس کی زندگی کو کوئی حظرہ نہ ہو۔

کراچی سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ میں رنکل کے ماموں راج کمار نے یہ درخواست دائر کی ہے، جس کی پیروی انسانی حقوق کی نامور کارکن نور ناز آغا کر رہی ہیں۔

نور ناز آغا نے موقف اختیار کیا ہے کہ ضلع گھوٹکی کے شہر میرپور ماتھیلو سے چوبیس فروری کے دن سترہ سالہ رنکل کماری کو نوید شاہ نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے گھر اغوا کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ غیر روایتی طور پر پولیس نے دوسرے روز ملزم نوید شاہ اور مغوی لڑکی دونوں کو انچارج جوڈیشل مجسٹریٹ کے پاس پیش کیا، جہاں مجسٹریٹ نے رنکل کا بیان قلمبند کرنے اور اسے دارالامان بھیجنے کی درخواستیں مسترد کردیں اور لڑکی اور لڑکے کو پولیس کے حوالے کردیا۔ نور ناز آغا کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ نے مخالف فریق کے دباؤ میں ایسا کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نیوز چینلز پر دکھائے گئے مناظر کے مطابق لڑکے اور لڑکی کی عدالت میں پیشی کے وقت انہیں جلوس کی صورت میں پیش کیا گیا

اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ ستائیس فروری کو رنکل کماری کا بیان اس کی مرضی کے مطابق نہیں تھا کیونکہ اس وقت وکیل اور رنکل کے والدین عدالت میں موجود نہیں تھے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ رنکل نے اسلام قبول کیا ہے اور وہ نوید شاہ کے ساتھ جانا چاہتی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم نے اس درخواست پر بارہ مارچ کو رنکل کماری عرف فریال کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب رنکل کے ماموں راج کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ ستائیس فروری کو انہیں عدالت میں داخل ہونے نہیں دیا گیا، انہوں نے پولیس حکام سے بات کرنے کی بھی کوشش کی جس کے بعد انہیں صرف احاطے کے اندر جانے کی اجازت ملی۔ ان کے مطابق عدالت اور شہر میں کئی مسلح افراد موجود تھے، پورا شہر بند تھا۔

رنکل کماری کے مبینہ اغواء اور جبری شادی پر ہندو کمیونٹی نے کراچی سے لیکر کشمور تک احتجاجی مظاہرے کیے۔

پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اور درگاہ بھرچونڈی شریف کے گدی نشین میاں عبدالحق پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔میاں عبدالحق کا کہنا ہے کہ جب رنکل ان کے پاس آئیں تو انہوں نے اس کے رشتے داروں سے رابطہ کیا مگر ان میں سے کوئی نہیں آیا، اس کے بعد اسے کلمہ پڑھایا گیا اور صبح اس نے عدالت میں بیان دیا۔

نیوز چینلز پر دکھائے گئے مناظر کے مطابق لڑکے اور لڑکی کی عدالت میں پیشی کے وقت انہیں جلوس کی صورت میں پیش کیا گیا، جس کے ساتھ مسلح افراد بھی موجود تھے، جنہوں نے بیان قلمبند کرانے کے بعد فائرنگ بھی کی۔

میاں عبدالحق کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا پڑتا ہے کیونکہ اس سے پہلے پولیس نے پیسے لیکر ایک دوسری لڑکی عدالت میں پیش کردی تھی جبکہ اصل لڑکی کو زبردستی انڈیا بھیج دیا گیا، اس وجہ سے یہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں پولیس پیسے نہ لے۔

اسی بارے میں