کورٹ مارشل کی کارروائی سیالکوٹ میں شروع

تصویر کے کاپی رائٹ none

حکومتِ پاکستان کے خلاف بغاوت اور پاکستانی بری فوج کے صدر دفاتر پر حملے کے الزامات کا سامنا کرنے والے بریگیڈئیر علی خان کے خلاف کورٹ مارشل کی باضابطہ کارروائی سیالکوٹ میں قائم فوجی عدالت میں شروع ہو گئی ہے۔

بریگیڈئیر علی خان کے بھائی ملک بشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ میجر جنرل کی عدالت میں بریگیڈئیر علی کو بدھ کی صبح پیش کیا گیا جن کی معاونت پاکستانی فوج کی جانب سے مقرر کردہ وکیل بریگیڈئیر واصف نے کی۔

بریگیڈئیر علی کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا اجلاس اس سے پہلے بھی ہو چکا ہے جس میں ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

ملک بشیر نے بتایا کہ بدھ کے روز عدالتی کارروائی کے شروع ہوتے ہی ان کے بھائی کی طبیعت خراب ہو گئی لیکن وکیل کی جانب سے بار بار استدعا کے باوجود اس کارروائی کو ایک مختصر وقفے کے بعد تمام دن جاری رکھا گیا۔

ملک بشیر نے کہا کہ ان کے بھائی دل کے عارضے کا شکار ہیں اور فوج کی حراست میں انہیں ضروری طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔

سیالکوٹ میں ہونے والی فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی اس کارروائی میں بریگیڈئیر علی پر سول حکومت کے خلاف فوج میں بغاوت پھیلانے، فوجی صدر دفاتر پر حملے اور کالعدم تنظیم حزب التحریر سے روابط کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

استغاثہ نے اس عدالت کے سامنے آٹھ فوجی افسران کو بریگیڈئیر علی کے خلاف گواہ کے طور پر پیش کیا ہے۔

جن فوجی اہلکاروں کی شہادت کو بریگیڈئیر علی کے خلاف عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے ان میں ٹرپل ون بریگیڈ کے سربراہ بریگیڈئیر عامر ریاض، ڈیفنس ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن کے بریگیڈئیر نعیم صادق، آرمی ائیر ڈیفنس کمانڈ کے بریگیڈئیر محمد امین، میجر جواد بصیر، میجر سہیل اکبر خلیل، میجر خواجہ کاشف اور نائیک محمد یوسف سلطان شامل ہیں۔

سیالکوٹ میں شروع ہونے والی کورٹ مارشل کی یہ کارروائی روزانہ کی بنیادوں پر چلائی جائے گی۔ بریگیڈئیر علی پر تمام الزامات ثابت ہونے کی صورت میں انہیں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔

فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کو سول عدالت میں چیلنج بھی کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں