’لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ other

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یا سینیٹ سے متفقہ طور پر منظور کردہ قرارداد میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کے اقدامات کیے جائیں۔

بدھ کو منظور کردہ اس قرارداد میں لاپتہ افراد کی گمشدگیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے یہ گمشدگیاں آئین کے بنیادی حقوق سے متعلق دو شقوں کی مسلسل خلاف ورزی ہے۔

جماعت اسلامی کے ریٹائر ہونے والے سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے یہ قرارداد پیش کی جس کی حکومت نے مخالفت نہیں کی اور تمام جماعتوں نے اتفاق رائے سے قرار دار منظور کر لی۔

اسلام آباد میں نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جبری گمشدگیوں کا معاملہ پچھلے چند سال سے جاری ہے لیکن تاحال اعلیٰ عدالتیں ہوں یا پارلیمان، مرکزی حکومت ہو یا صوبائی حکومتیں، وہ جبری گمشدگیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر کردار ادا نہیں کر پائے اور بظاہر بے بس نظر آتے ہیں۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی اور تخریب کاری کی کارروائیاں ناقابل معافی ہیں، لیکن ہر شہری جب تک قانونی عمل کے ذریعے قصور وار قرار نہ دیا جائے اس وقت تک وہ معصوم تصور ہوگا۔

قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی شہری کا اغوا، اٹھانا یا جبری گمشدگی کسی بھی مہذب معاشرے میں غیر قانونی اور ناقابل برداشت ہے۔ سپریم کورٹ نے پہلے ہی بلوچستان، فاٹا اور کراچی میں ایسی صورت حال کا نوٹس بھی لے رکھا ہے۔

سینیٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ ایسے افراد جن کے خلاف قانون کے مطابق کوئی کارروائی ہو رہی ہے، ان کے سوا تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جبری گمشدگیوں اور بازیابیوں کے بارے میں جلد سے جلد تفصیلی رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں گمشدہ افراد کے اہل خانہ انٹیلی جنس اداروں پر الزام لگاتے ہیں۔ جبکہ سیکورٹی ایجنسیز ایسے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہیں۔

Image caption پاکستان میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ متعدد بار اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کر چکے ہیں

لاپتہ ہونے والوں میں ایک کیٹیگری تو وہ ہے جس میں مذہبی شدت پسندی کی بنا پر لوگ غائب ہوتے رہے ہیں جبکہ دوسری کیٹیگری بلوچستان اور سندھ سے قوم پرست سیاسی کارکنوں کی ہے اور ان پر بھی پر تشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگتا ہے۔

پاکستان میں لاپتہ افراد کے اعداد وشمار شروع سے ہی ایک متنازع معاملہ رہا ہے لیکن بلوچستان نیشنل وائس نامی تنظیم نے جو فہرست مرتب کی ہے اس کے مطابق صرف بلوچستان میں گزشتہ ڈھائی برسوں میں چار سو کے قریب مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔

بلوچ نیشنل وائس نے پاکستانی سینٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے منظور کی گئی قرارداد پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ صرف اور صرف دنیا کو بیوقوف بنانے کی ناکام کوشش ہے۔

تنظیم کے ترجمان مقبول بلوچ نے ٹیلی فون پر بی بی سی اردو کے احمد رضا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان کے ایوانوں کے ارکان میں اتنی اخلاقی جرات بھی نہیں کہ وہ بلوچستان میں لوگوں کو اغواء کرنے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے والی پاکستانی فوج، آئی ایس آئی اور ایم آئی کا براہ راست نام لے سکیں‘۔

مقبول بلوچ کا کہنا تھا کہ اس وقت ڈیڑھ سو کے قریب بلوچ خواتین، ایک سو ستر سے زیادہ بلوچ کم سن بچوں سمیت کم از کم چودہ ہزار بلوچ لاپتہ ہیں جن میں سے اب تک چار سو سولہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔

انہوں نے کہا ان کی تنظیم یہ سمجھتی ہے کہ بلوچوں کے قتل عام میں پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس کے اداروں کے ساتھ ساتھ پاکستانی پارلیمینٹ، بیوروکریسی اور عدلیہ بھی برابر کی ذمہ دار ہے اور پاکستانی میڈیا بلوچ مسئلے کو جان بوجھ کر نظر انداز کرکے سارے کھیل میں خاموش اتحادی کا کردار ادا کررہا ہے۔

اسی بارے میں