پشاور: دفاع پاکستان کونسل کے خلاف مظاہرہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں سول سوسائٹی کی تنظیم ’امن تحریک‘ نے مذہبی اور سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد دفاع پاکستان کونسل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اس تنظیم پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مظاہرہ منگل کو پشاور کے علاقے ہشتنگری میں منعقد ہوا جس میں سول سوسائٹی کے کارکنوں نے شرکت کی۔

امن تحریک کے کنوئینر ادریس کمال نے بی بی سی کے رفعت اللہ اورکزئی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دفاع پاکستان کونسل میں شامل تمام جماعتیں دہشت گردی کے حمایت کرتی ہیں لہٰذا اس تنظیم کو پشاور میں ریلی کی اجازت نہ دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ خطہ پہلے پچھلے بیس پچیس سالوں سے دہشت گردی اور شدت پسندی سے متاثرہ رہا ہے اور اب جبکہ علاقے میں کچھ امن کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں تو اس قسم کی تنظیمیں پھر سے حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ خیبر پختونخوا اور فاٹا میں دہشت گردی جاری ہے اور تعلیمی اداروں پر حملے بھی ہو رہے ہیں لیکن دفاع پاکستان کونسل نے کبھی ان حملوں کی مذمت نہیں کی۔

ادریس کمال نے چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری سے مطالبہ کیا کہ دفاع پاکستان کونسل پر دہشت گردوں کی حمایت کرنے پر پابندی لگائی جائے اور اس تنظیم کو پشاور میں ریلی کی اجازت نہ دی جائے۔

بتایا جاتا ہے کہ امن تحریک نے یہ مظاہرہ ایسے وقت کیا جب دفاع پاکستان کا ایک اجلاس ہشتنگری کے علاقے میں ایک مقامی ہوٹل میں جاری تھا۔

خیال رہے کہ دفاع پاکستان کا جلسہ اٹھارہ مارچ کو پشاور منعقد ہونا تھا تاہم دفاع پاکستان کونسل کے ذرائع کے مطابق یہ جلسہ اب بعض نامعلوم وجوہات کی بناء پر ملتوی کردیا گیا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دفاع پاکستان مذہبی اور سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک اتحاد ہے جس میں درجنوں چھوٹی چھوٹی جماعتیں شامل ہیں۔

اسی بارے میں