وحیدہ شاہ دو سال کے لیے نااہل

تصویر کے کاپی رائٹ

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سندھ اسمبلی کے حلقے پی ایس تریپن سے پاکستان پیپلز پارٹی کی خاتون امیدوار وحیدہ شاہ کو خواتین پولنگ سٹاف پر ہاتھ اٹھانے کے واقعہ پر فیصلہ سناتے ہوئے دو سال کے لیے نااہل قرار دے دیا ہے۔

تاہم الیکشن کمیشن کے سندھ سے تعلق رکھنے والے دو ارکان نے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔

الیکشن کمیشن نےاس فیصلے میں سندھ اسمبلی کے حلقے پی ایس تریپن کے لیے ہونے والے ضمنی انتخاب کو بھی کالعدم قرار دیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ حامد علی مرزا اور چاروں صوبوں کے اراکین پر مشتمل الیکشن کمیشن نے آج اس معاملے کی سماعت کی۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان افضل خان نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا ’ کمیشن کے تین فاضل ممبران نے وحیدہ شاہ کے لیے سزا تجویز کی جبکہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ حامد علی مرزا اور سندھ کے رکن جسٹس ریٹائرڈ محمد روشن عیسانی نے سزا کی محالفت کی ہے۔‘

الیکشن کمیشن کے ترجمان افضل خان نے مزید بتایا کہ سندھ پولیس کے آئی جی کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ڈی ایس پی عرفان شاہ کے خلاف بھی کارروائی کریں۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی خاتون امیدوار وحیدہ شاہ کی جانب سے سٹاف کو تھپڑ مارنے کے واقعہ کے وقت ڈی ایس پی عرفان شاہ موقع پر موجود تھے۔

چیف الیکشن کمشنر نے صوبائی حلقے کے ریٹرننگ افسر کو اس واقعہ کی فوری تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا جس پر ریٹرننگ افسر نے تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ بھی کمیشن کو پیش کردی ہے۔

صوبۂ سندھ کے ضلع ٹنڈو محمد خان کی یہ نشست پیپلز پارٹی کے رکن سید محسن شاہ بخاری کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی تھی جس پر پارٹی نے ان کی بیوہ وحیدہ شاہ کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔

پچیس فروری کو ضمنی انتخاب کے دوران ٹنڈو محمد خان کے ایک پولنگ سٹیشن پر وحیدہ شاہ نے کسی بات پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے پولنگ سٹاف میں شامل دو خواتین کو تھپڑ رسید کردیے تھے۔ ٹی وی کیمرہ مینوں نے اِن مناظر کو فلمبند کرلیا تھا جس کے بعد ٹی وی چینلز پر یہ مناظر دو دن تک نشر ہوتے رہے تھے۔

غیرحتمی نتائج کے مطابق ضمنی انتخاب میں وحیدہ شاہ نے سب سے زیادہ ووٹ لیے تھے لیکن الیکشن کمیشن نے اس واقعے کے بعد نتیجہ روک لیا تھا اور ان کے خلاف پولیس میں مقدمہ بھی درج کرایا تھا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی اس واقعہ کا ازخود نوٹس لیا اور وحیدہ شاہ کو عدالت میں طلب کیا تھا۔ وحیدہ شاہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ غلط فہمی کا نتیجہ تھا جس پر انہوں نے پولنگ سٹاف سے معافی بھی مانگی ہے۔

اسی بارے میں